اہل یہود , اسرائیل اور سازشیں۔۔۔


از احسن اعوان


جدید دنیا میں صرف دو ایسی ریاستیں ہیں جو مذہبی نظریاتی ٹکراؤ کی کیفیت کا شکار ہیں۔ ایک جانب اسلامی نظریاتی مملکت کے طور پر پاکستان نے جنم لیا تو دوسری جانب عین اسی وقت دوسری طویل بے دخلی کے بعد یہود خطہ عرب میں اپنی مملکت بنانے میں کامیاب ہوئے۔
دونوں ممالک کی کوئی تاریخی، ثقافتی، سماجی یا معاشرتی مخاصمت نہیں رہی مگر مذہبی بنیادوں نے روز اول سے ہی پاکستان اور اسرائیل کو سامنے لاکھڑا کیا۔ اس بلواسطہ دشمنی نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھےتاہم مملکت خداداد میں اس نظریاتی کشمکش کو ایک تیربہ ہدف نسخہ سمجھ لیا گیا، اور اپنی تمام تر غلطیوں اور کوتاہیوں کا ملبہ روایتی دشمن بھارت، اسرائیل اور اسکے مائی باپ امریکا پر ڈالنا ہمارا قومی وطیرہ بنتا گیا اور اب یہ کلیہ اس قدر رچ بس چکا ہے کہ کوئی بھی شخص اگر درست حقائق پیش کرنے کی کوشش بھی کرے تو غدار، مغربی ایجنٹ، یہودی سازش کا حصہ وغیر ٹھہرا دیا جاتاہے۔

آج یہی کوشش میں بھی کرنے جارہا ہوں، اللہ میرے ایمان اور حب الوطنی کی حفاظت فرمائے۔ آمین
اسرائیل کا نام سنتے ہی ہمارے ذہنوں میں ایک نفرت سے آجاتی ہے۔ لیکن آیئے اپنے اوپر تھوڑا جبر کرتے ہیں اور اپنے "دشمن" سے کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر اسرائیل کے رقبے کا جائزہ لیا جائے تو اسکا دو تہائ حصہ بنجر ہے،چند سال پہلے تک باقی حصے میں بھی کاشت کاری بہت مشکل تھی۔۔بارشیں بہت ہی کم ہوتی تھیں۔۔
اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے انہوں نے وژن 2050 کی بنیاد رکھی، جسکے مطابق 2050 میں وہ پانی پر مکمل بادشاہت حاصل کرلیں گے۔۔ پھر اسی مشن کو پایہ تکمیل پر پہنچانے کے لیئے انہوں اسرائیل واٹر اتھارٹی قائم کی۔ اس میں سائنسدان، ٹیکنوکریٹ اور انجنیئرز تھے اور یہ پراجیکٹ ہر قسم کی سیاسی مداخلت سے آزاد تھا۔اس اتھارٹی نے پانی کے حوالے سے ہرزاوئے سے تحقیق کی، اپنی قوم میں پانی کی اہمیت کا شعور اجاگر کیا, آنے والے خطرات سے آگاہ کیا گیا۔۔۔ اشتہار بازی کی گئ۔
دوسرا کام انہوں نے یہ کیا کہ پانی پر سبسڈی ختم کردی۔۔ تاکہ قوم پانی کو ضائع نہ کرے۔۔
تیسرا کام یہ کیا کہ واٹر ٹیکنالوجی کا قیام عمل میں لایا گیا۔۔ اسکی ٹیکنالوجی کی مددسے اب وہ 90 فیصد کے لگ بھگ سیورج کے پانی کو ری سائیکل کرتے ہیں۔۔ 2020 تک وہ اسی پانی سے اپنی 50 فیصد بنجر زمین کو سیراب کرلیں گے۔۔
اسرائیل نے زمین کے اندر بخارات بننے والے پانی کو بھی ضائع ہونے سے بچانے کا انتطام کرلیا ہے، وہ کھارے پانی کو صاف کرنے کا سب سے سستا پلانٹ بنا چکا ہے۔
اب آئیے پاکستان کی جانب جہاں قدرت نے بےمثال وسائل سے مالامال خطہ دیکر ہم پراپنی نعمتوں کو تمام کیا مگرہم نے ان سے کتنا فائدہ اٹھایا؟
ڈان اور دوسرے عالمی اداروں اور نیوز ایجنسیز کے مطابق پاکستان ہر سال 25 ارب ڈالر کا پانی ضائع کردیتا ہے۔ یہ اعداد ہمارے زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر سے بھی زائد ہیں۔
اگر قدرتی ذخائر اور جغرافیائ محل وقوع کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان ان ذخائر کے 80 فیصد پر مشتمل ہے اور اسرائیل محض 8 فیصد پر۔۔۔
پاکستان میں آخری بڑا ڈیم 1960 میں بنایا گیا، 1991 میں عالمی اداروں نے ہمیں بتایا کہ آپ پانی کے قلت لیول سے نیچے آچکے ہیں، لیکن ہم نے انکی بات کی کوئ پرواہ نہیں کی۔۔۔
2005 میں ہمیں ہمارے "دشمنوں" نے پھر خبردار کیا کہ آپ پانی کے قلت کےلیول پر پہنچ چکے ہیں۔۔ نہ ہمیں اسرئیل نے ڈیم بنانے سے روکا نہ یہود نے کوئی سازش کی، بھارت نے روکا نہ امریکا نے فنڈ بند کرنے کی دھمکی دی مگر ہم نے سیاست ، لسانیت اور قومیت کی کشمکش میں اس وارننگ پر بھی کان نہ دھرے۔۔۔
انہی اداروں نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ 2025 مین ملک کے 7 بڑے شہر قحط کا شکار ہوسکتے ہیں جبکہ 2035 میں ہمارے تمام گلیشرز پگھل چکے ہونگے۔۔
پھر ہمیں خیال آہی گیا اور دیامربھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کا اعلان کیا گیا، اس پر بھی شدت سے سیاست کا عنصر غالب رہا۔
زمین خرید کر ڈیم کا افتتاح کرنے والے غدار ٹھہرے تو خودساختہ ہیرو میدان میں آگئے۔ملک کے منصف اعظم لاکھوں پینڈنگ پڑے کیسزکے فیصلے کرنے کے بجائے ڈیم کے نام پر عوام کو ڈیم فول بنانے میں جٹ گئے۔  بندوقوں والے ہر پراجیکٹ کی طرح اس ’’ترنوالے‘‘ کو بھی اپنے ماتحت لانے میں کامیاب رہے۔
کیا یہ سب اسرائیل کرا رہا ہے؟
کیا یہ سب بھارتی سازشیں ہیں؟
کونسی یہودی سازش نے ہمیں اپنے ملک کی فلاح سے روک رکھا ہے؟
کونسی یہود سازش ہمیں قرآن و حدیثؐ پڑھنے اور ان پر عمل کرنے سے روکتی ہے؟
کب امریکا نے کافر کافر کی صدائیں دیکر عبادتگاہوں کو خون سے تر کیا؟


سوال بہت ہیں، جتنا بھی روکا جائے سوال تو ہوتے رہیں گے ۔۔۔
ملا، دانشور، جج، جرنیل، سیاستدان، مفکر سب جان لیں کہ
پاکستانی قوم راسخ العقیدہ ہے انکے نظریات کی فکر کرنا چھوڑدیں ۔۔۔
سوال روکنے ہیں اقدامات پر توجہ دیں ۔۔۔