وہ جواب کب آئے گا؟
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحانہ قبضے کو قریب تین ماہ بیت چکے۔ اس دوران نو لاکھ سے زائد فوج نے اہلیانِ کشمیر کے روزگارِ زندگی جبری طور پر مفلوج کررکھے ہیں۔کتنے بچوں کو پکڑا گیا،کتنے شہید کردیئےگئے،کتنے معزور ہوئے،کتنی عزتیں پامال کی جاچکی ،غرض کشمیر میں کیا ہورہاہے، کوئی کچھ نہیں جانتا ۔ چند خبریں باہر آتی تو انہیں کی بنیاد پر مجموعی صورتحال کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔
پاکستان گزشتہ بہتر سالوں سے کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی و اخلاقی حمایت کا بوجھ اٹھائے ہوئے دنیا کے سامنے بھارتی جبرکیخلاف گریہ کناں ہے۔ ہم بہترسالوں میں کشمیر یوں کے ساتھ سادہ خوشبو یکجہتی اور ایام شہداء مناتے آرہے ہیں ۔ان کے لئے عالمی حمایت کی بھیک مانگتے رہے ہیں ، ہمارا موقف رہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا ہماراموقف سنتی اور تسلیم کرتی ہے۔اقوام متحدہ کےذیلی ادارے ہوں ،او آئی سی یا دیگرعالمی و علاقائی فورمز۔ہم ہرفورم پر کشمیریو ں کے حق خود ارادیت کیلئے سفارتی و اخلاقی کامیابی کے دعوے کرتے رہے ۔ پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بھی پاکستانی ریاست مکمل طورپر کشمیریوں کی ہر ممکن حمایت میں لگی ہوئی ہے۔صرف حکومت یا ادارے ہی نہیں پاکستانی من حیث القوم اپنی اپنی استقاعت کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو اور جبر کیخلاف سراپا احتجاج ہے ۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہو، شملہ کا معاہدہ یامعاہدہ ِ تاشقند۔ بھارت ہر عالمی فورم اور باہمی معاہدات میں کشمیر کی متنازع حثیت کو نہ صر ف تسلیم کرچکا ہے بلکہ اسے دوطرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا اعلان بھی کرتا رہا ۔مگر پانچ اگست کو دنیا اور کشمیریوں سے کئے گئے تمام معاہدوں اور وعدوں کو بالاطاق رکھتے ہوئے یکطرفہ قدم اٹھالیا۔آج تین ماہ سے زائد گزرنے کے بعد بھی بھارتی اقدامات کیخلاف محض چند ممالک کے سوا دنیا بھر میں کوئی ریکشن نہیں، اس صورتحال میں ریاست ِپاکستان کا موقف اب بھی یہی ہے کہ کشمیر سے کرفیواٹھائے جانے کےبعد کشمیرمیں اٹھنے والا احتجاجی طوفان روکنا بھارت کے بس میں نہیں ہوگا۔حالانکہ اس دور کی کوڑی کا سادہ سا جواب دنیا گزشتہ تین میں ماہ سے متواتر دے رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی مفاد کے زیراثر وہ کسی انسانی حقوق ،انصاف یا حق خودارادیت کو نہیں پہچانتی۔ یہ ننگی حقیقت ہے کہ دنیا اپنا مفاد دیکھ رہی ہے ۔بھارت ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے ۔ سوائے چند ایک کے کوئی ملک کسی بھی طور پر آپکا ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔دنیا کا جواب آپکے سامنے ہے ، دوست عرب ہوں یا انکل سام ۔۔ سب پاکستان کو صبر وتحمل کا درس دیتے نظر آتی ہے مگر کوئی بھارتی ظلم و جبر کیخلاف واضح موقف اختیار کررہا ہےنہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی انہیں بے چین کررہی ہے۔
۔مقبوضہ وادی میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتارکرکے بھارت بھر کی جیلیں بھری جاچکی ہیں ۔سیکٹروں قتل کئے جاچکے،ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہیں نہ معصوموں کا بچپن۔۔مساجدویران ہیں ،یہاں تک کہ عمررسیدہ افراد تک کو جمعے کی نماز تک پڑھنے کی اجازت نہیں ۔۔ یہ تمام تفصیلات پاکستانی یا چینی میڈیا کی نہیں بلکہ امریکی اور یورپی میڈیا کی ہیں ، لہذا ان میں لغوگوئی کا کوئی خدشہ نہیں مگر مہذب دنیا نے کیا کرلیا ؟؟
آزادکشمیر کی صورتحال بہت پریشان کن ہے، عوام کی بے صبری بڑھتی جارہی ہے۔ کشمیریوں کی تکلیف کا اندازہ نہیں ، انہیں ایل او سی کی دوسری جانب بسنے والے اپنے عزیزوں سے متعلق انہیں کوئی اطلاع نہیں ،آیا وہ زندہ ہیں یا شہید کردیئے گئے۔حکومت کی کوششیں جنگل کے اس بندر ڈاکٹر سے زائد نہیں جو مریض کا علاج کرنے کے بجائے یہاں وہاں کود کر اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کوششیں کرتا ہے۔ سوائے ایام سیاہ، تقاریر اور اقوام عالم کی حمایت کےبے پر کے دعوؤں کے ،بھارت کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکا۔ پاکستان کے سفارتی مشن اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں، مگر ان کوششوں سے اب تک مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹوایا جاسکانہ ہزاروں کی تعداد میں قید نوجوانوں کو دیگر ریاستوں سے واپس لایاجاسکا۔
بات یہیں تک نہیں رکتی بلکہ بھارت متواتر پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہے۔آئے روز جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی اور شہری آبادی پر حملے معمول ہیں، سیکٹروں شہری دشمن کے اس مشغلے کا شکار ہوچکے مگر ہمارا جواب ۔۔ دندان شکن جواب، دشمن کی توپیں خاموش یا دشمن کا بھاری نقصان ہوا تک محدود ہے۔ بہت غصہ آگیا تو بھارتی ناظم العمور کو دفترخارجہ طلب کرکے ردی کا ایک ٹکڑا تھما دیا۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم قریب ہر تقریب میں آبدیدہ ہوجاتے ہیں، وہ بے بس ہیں اور اسی بے بسی کی داستان سناتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ مقبوضہ وادی سے کسی نہ کسی طرح آئی اطلاعات میں ایک چیز بہت تواتر کے ساتھ بیان کی جاتی ہے ۔وہاں مائیں ، بہنیں ،بیٹیاں ہر روز صبح اپنے دروازوں اور کھڑکیوں سے جھانک کر باہر دیکھتی ہیں کہ شاید ہمیں بچانے ہمارے بھائی آگئے ہونگے ۔ہماری گلیوں میں ناپاک بھارتی فوج کی جگہ پاکستان کی پاک فوج گشت کررہی ہوگی مگر ۔۔۔چاغی کے پہاڑ روتے ہونگے، کشمیر میں بہتے لہو کی پکار پر انکی زردی مائل رنگت میں سرخی امنڈ آتی ہوگی ، مگر کیا ہمارے حکمرانوں میں ابن قاسم ؒ کی کوئی رمق باقی نہیں؟کیا یہ انتظار کیا جارہا ہے کہ جنگ ِیرموک کی طرح عورتیں اپنے گھروں سے ہاتھوں میں ڈنڈے لیے نکلیں اور خود مسلمان فوجیوں کو مارنا شروع کردیں کہ جو دشمن کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔اورکیا یوں ہی غیرت دلائی جائے کہ جاؤ اور مردوں کی طرح لڑو۔اب فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا تھا۔
ہمیں ریاست مدینہ کی یاد دلانے والے تاریخ کی کتب کو بغور پڑھیں ،دوراصدیق ؓ میں دمشق کے محاصرے کے دوران جب رومیوں کا چھ ہزار کا لشکر چالاکی سے مسلم خواتین کے کیمپ پر حملہ آور ہوا اور مسلمان عورتوں کے خیموں کو گھیر لیا ۔ رومیوں کا خیال تھا کہ وہ مسلمان عورتوں کو زندہ گرفتار کرکے دمشق کے قلعے میں لے جائیں گے ۔مگر جب سیدنا خالدؓ بن ولید کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ فوراً پلٹے اور صرف مٹھی بھر مجاہدین کو ساتھ لیکر غیض و غضب کے عالم میں قیامت بن کر کفار پر ٹوٹے۔کفار کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ انہوں نے کس کو چھیڑ دیا ہے۔ خالدؓ کا جلال اپنی انتہا کو چھو رہا تھا کہ رومیوں نے مسلمانوں کی عزت پر حملہ کیا تھا ۔رومیوں کو اندازہ بھی نہ ہواکہ کہاں اور کس طرح سے ان پرقیامت ٹوٹ پڑی۔ حضرت خالدؓ بن ولید اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بجلی بن کر ان پر گرے ۔ چھ ہزار رومیوں میں سے صرف چند سو ہی بمشکل اپنی جانیں بچا کر واپس قلعے تک پہنچ سکے۔ باقی پوری فوج اسی میدان میں کاٹ دی گئی۔جناب وزیراعظم ،یہ تھا ریاست مدینہ کا ایکشن ۔۔
انہوں نے اپنی عزتوں کے پامال ہونے اور دشمن کیخلاف اپنی عورتوں کے احتجاج کا انتظار نہیں کیا ، بلکہ تنائج کی پروہ کئے بغیر فوری ایکشن لیا ۔
محترم وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں جنگ مسئلے کا حل نہیں ، بھارت پر حملہ کرنا تو آپشنز میں بھی نہیں ۔ اس ملک کے عوام حیرت زدہ ہیں کہ یہ تو وہی کپتان ہے جو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران عظیم سپہ سالار ٹیپو سلطان کےنام کی مالا جبتا رہا ، جو کہتا تھا میں بہادر شاہ ظفر نہیں ٹیپوسلطان بننا پسند کرونگا ۔وہ بہادر شاہ تو آخر وقت تک مذاکرات ہی کرتا رہا ، اورٹیپوتھا جس نے کہا ، ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہترہے‘‘ ۔ تاریخ بتاتی ہے فیلڈ مارشل ایوب خان کشمیر کے دروازے پردستک دیکر امریکا سے ڈرگیا ۔تاریخ کہتی ہے شملہ میں بھٹو نے کشمیر کو اقوام متحدہ سے باہر نکالنے پر حامی بھرلی ۔ مشرف نے کشمیر کی تقسیم کا فیصلہ تقریبا کرہی لیا تھا ،اور کیا آپ نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ بہادر شاہ ظفر بنیں گے۔؟
ہمارے حکمران اور سپہ سالار مقبوضہ کشمیر سے موصول ہرخبر یاجنگ بندی لائن پر ہر بھارتی حملے کے بعد ایک جملہ تواتر کے ساتھ دہراتے ہیں ۔۔ بھارت کی کسی بھی شرانگیزی کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔۔۔میری وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان سے درخواست ہے کہ کشمیریوں کو نہ سہی کم از کم پاکستانی قوم کو ہی اعتماد میں لیکر ایک بار بتلا دیں کہ ۔۔وہ جواب کب آئے گا؟؟؟
