وہ جواب کب آئے گا؟


مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحانہ قبضے کو قریب تین ماہ بیت چکے۔ اس دوران نو لاکھ سے زائد فوج نے اہلیانِ کشمیر کے روزگارِ زندگی جبری طور پر مفلوج کررکھے ہیں۔کتنے بچوں کو پکڑا گیا،کتنے شہید کردیئےگئے،کتنے معزور ہوئے،کتنی عزتیں پامال کی جاچکی ،غرض کشمیر میں کیا ہورہاہے، کوئی  کچھ نہیں جانتا ۔ چند خبریں باہر آتی تو انہیں کی بنیاد پر مجموعی صورتحال کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔
 پاکستان گزشتہ بہتر سالوں سے کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی و اخلاقی حمایت کا بوجھ اٹھائے ہوئے دنیا کے سامنے بھارتی جبرکیخلاف گریہ کناں ہے۔ ہم بہترسالوں میں کشمیر یوں کے ساتھ سادہ خوشبو یکجہتی  اور ایام  شہداء مناتے آرہے ہیں ۔ان کے لئے عالمی حمایت کی بھیک مانگتے رہے ہیں ، ہمارا موقف رہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا ہماراموقف سنتی اور تسلیم کرتی ہے۔اقوام متحدہ کےذیلی ادارے ہوں ،او آئی سی یا دیگرعالمی و علاقائی فورمز۔ہم ہرفورم پر کشمیریو ں کے حق خود ارادیت کیلئے  سفارتی و اخلاقی کامیابی کے دعوے کرتے رہے ۔ پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بھی پاکستانی ریاست مکمل طورپر کشمیریوں کی ہر ممکن حمایت میں لگی ہوئی ہے۔صرف حکومت یا ادارے ہی نہیں پاکستانی  من حیث القوم  اپنی اپنی استقاعت کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو اور جبر کیخلاف سراپا احتجاج ہے ۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ہو، شملہ کا معاہدہ یامعاہدہ ِ  تاشقند۔ بھارت ہر عالمی فورم اور باہمی  معاہدات میں کشمیر کی متنازع حثیت کو نہ صر ف تسلیم کرچکا ہے بلکہ اسے دوطرفہ بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا اعلان بھی کرتا رہا ۔مگر پانچ اگست کو دنیا اور کشمیریوں سے کئے گئے تمام معاہدوں اور وعدوں کو بالاطاق رکھتے ہوئے یکطرفہ قدم اٹھالیا۔آج تین ماہ سے زائد گزرنے کے بعد بھی  بھارتی اقدامات کیخلاف محض چند ممالک کے سوا دنیا بھر میں کوئی ریکشن نہیں، اس صورتحال میں ریاست ِپاکستان کا موقف اب بھی یہی ہے کہ کشمیر سے کرفیواٹھائے جانے کےبعد کشمیرمیں اٹھنے والا احتجاجی طوفان روکنا بھارت کے بس میں نہیں ہوگا۔حالانکہ اس دور کی کوڑی کا سادہ سا جواب دنیا گزشتہ تین میں ماہ سے متواتر دے رہی ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی مفاد کے زیراثر وہ کسی انسانی حقوق ،انصاف یا حق خودارادیت کو نہیں پہچانتی۔ یہ ننگی حقیقت ہے کہ دنیا اپنا مفاد دیکھ رہی ہے ۔بھارت ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے ۔ سوائے چند ایک کے کوئی ملک کسی بھی طور پر آپکا ساتھ دینے کو تیار نہیں ۔دنیا کا جواب آپکے سامنے ہے ، دوست عرب ہوں یا انکل سام ۔۔ سب پاکستان کو صبر وتحمل کا درس دیتے نظر آتی ہے مگر کوئی بھارتی  ظلم و جبر کیخلاف واضح موقف اختیار کررہا ہےنہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی انہیں بے چین کررہی ہے۔
۔مقبوضہ وادی میں ہزاروں نوجوانوں کو گرفتارکرکے بھارت بھر کی جیلیں بھری جاچکی ہیں ۔سیکٹروں قتل کئے جاچکے،ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہیں نہ معصوموں کا بچپن۔۔مساجدویران ہیں ،یہاں تک کہ عمررسیدہ افراد تک کو  جمعے کی نماز تک پڑھنے کی اجازت نہیں ۔۔ یہ تمام تفصیلات پاکستانی یا چینی میڈیا کی نہیں بلکہ امریکی اور یورپی  میڈیا کی ہیں ، لہذا ان میں لغوگوئی کا کوئی خدشہ نہیں مگر مہذب دنیا نے کیا کرلیا ؟؟
آزادکشمیر کی صورتحال بہت پریشان کن ہے، عوام کی بے صبری بڑھتی جارہی ہے۔ کشمیریوں کی تکلیف کا اندازہ نہیں ، انہیں ایل او سی کی دوسری جانب بسنے والے اپنے عزیزوں سے متعلق انہیں کوئی اطلاع نہیں ،آیا وہ زندہ ہیں یا شہید کردیئے گئے۔حکومت کی کوششیں جنگل کے اس بندر ڈاکٹر سے زائد نہیں جو مریض کا علاج کرنے کے بجائے یہاں وہاں کود کر اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کوششیں کرتا ہے۔ سوائے ایام سیاہ، تقاریر اور اقوام عالم کی حمایت کےبے پر کے دعوؤں کے ،بھارت کا کچھ نہیں بگاڑا جاسکا۔ پاکستان کے سفارتی مشن اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں، مگر ان کوششوں سے اب تک مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹوایا جاسکانہ ہزاروں کی تعداد میں قید نوجوانوں کو دیگر ریاستوں سے واپس لایاجاسکا۔
بات یہیں تک نہیں رکتی بلکہ بھارت متواتر پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ میں مصروف ہے۔آئے روز جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی اور شہری آبادی پر حملے معمول ہیں، سیکٹروں شہری دشمن کے اس مشغلے کا شکار ہوچکے  مگر ہمارا جواب ۔۔ دندان شکن جواب، دشمن کی توپیں خاموش یا دشمن کا بھاری نقصان ہوا تک محدود ہے۔ بہت غصہ آگیا تو بھارتی ناظم العمور کو دفترخارجہ طلب کرکے ردی کا ایک ٹکڑا تھما دیا۔
آزاد کشمیر کے وزیراعظم قریب ہر تقریب میں آبدیدہ  ہوجاتے ہیں، وہ بے بس ہیں اور اسی بے بسی کی داستان سناتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ مقبوضہ وادی سے کسی نہ کسی طرح  آئی اطلاعات میں ایک چیز بہت تواتر کے ساتھ بیان کی جاتی ہے ۔وہاں مائیں ، بہنیں ،بیٹیاں  ہر روز صبح اپنے دروازوں اور کھڑکیوں سے جھانک کر باہر دیکھتی ہیں کہ شاید ہمیں بچانے ہمارے بھائی آگئے ہونگے ۔ہماری گلیوں میں ناپاک بھارتی فوج کی جگہ پاکستان کی پاک فوج گشت کررہی ہوگی مگر ۔۔۔چاغی کے پہاڑ روتے ہونگے، کشمیر میں بہتے لہو کی پکار پر انکی زردی  مائل رنگت میں سرخی امنڈ آتی ہوگی ، مگر کیا ہمارے حکمرانوں  میں ابن قاسم ؒ کی کوئی رمق باقی نہیں؟کیا یہ انتظار کیا جارہا ہے کہ جنگ ِیرموک  کی طرح  عورتیں  اپنے گھروں سے ہاتھوں میں ڈنڈے لیے نکلیں اور خود مسلمان فوجیوں کو مارنا شروع کردیں کہ جو دشمن کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔اورکیا یوں ہی  غیرت دلائی جائے کہ جاؤ اور مردوں کی طرح لڑو۔اب فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا تھا۔
ہمیں ریاست مدینہ کی یاد دلانے والے تاریخ کی کتب کو بغور پڑھیں ،دوراصدیق ؓ میں دمشق کے محاصرے  کے دوران جب رومیوں کا چھ ہزار کا لشکر چالاکی سے مسلم خواتین کے کیمپ پر حملہ آور ہوا اور مسلمان عورتوں کے خیموں کو گھیر لیا ۔ رومیوں کا خیال تھا کہ وہ مسلمان عورتوں کو زندہ گرفتار کرکے دمشق کے قلعے میں لے جائیں گے ۔مگر جب سیدنا خالدؓ بن ولید کو جب یہ اطلاع ملی تو وہ فوراً پلٹے اور صرف مٹھی بھر مجاہدین کو ساتھ لیکر غیض و غضب کے عالم میں قیامت بن کر کفار پر ٹوٹے۔کفار کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ انہوں نے کس کو چھیڑ دیا ہے۔ خالدؓ کا جلال اپنی انتہا کو چھو رہا تھا کہ رومیوں نے مسلمانوں کی عزت پر حملہ کیا تھا ۔رومیوں کو اندازہ بھی نہ ہواکہ کہاں اور کس طرح سے ان پرقیامت ٹوٹ پڑی۔ حضرت خالدؓ بن ولید اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ بجلی بن کر ان پر گرے ۔ چھ ہزار رومیوں میں سے صرف چند سو ہی بمشکل اپنی جانیں بچا کر واپس قلعے تک پہنچ سکے۔ باقی پوری فوج اسی میدان میں کاٹ دی گئی۔جناب وزیراعظم ،یہ تھا ریاست مدینہ کا ایکشن ۔۔
انہوں نے اپنی عزتوں کے پامال ہونے اور دشمن کیخلاف اپنی عورتوں کے احتجاج کا انتظار نہیں کیا ، بلکہ تنائج کی پروہ کئے بغیر فوری ایکشن لیا ۔
محترم وزیراعظم صاحب فرماتے ہیں جنگ مسئلے کا حل نہیں ، بھارت پر حملہ کرنا تو آپشنز میں بھی نہیں ۔ اس ملک کے عوام حیرت زدہ ہیں کہ یہ تو وہی کپتان ہے جو قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران عظیم سپہ سالار ٹیپو سلطان کےنام کی مالا جبتا رہا ، جو کہتا تھا میں بہادر شاہ ظفر نہیں ٹیپوسلطان بننا پسند کرونگا ۔وہ بہادر شاہ تو آخر وقت تک  مذاکرات ہی کرتا رہا ، اورٹیپوتھا جس نے کہا ، ’’شیر کی ایک دن کی زندگی گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے بہترہے‘‘ ۔ تاریخ بتاتی ہے فیلڈ مارشل ایوب خان کشمیر کے دروازے پردستک دیکر امریکا سے ڈرگیا ۔تاریخ کہتی ہے شملہ میں بھٹو نے کشمیر کو اقوام متحدہ سے باہر نکالنے پر حامی بھرلی ۔ مشرف نے کشمیر کی تقسیم کا فیصلہ تقریبا کرہی لیا تھا ،اور کیا آپ نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ بہادر شاہ ظفر بنیں گے۔؟
ہمارے حکمران اور سپہ سالار مقبوضہ کشمیر سے موصول ہرخبر یاجنگ بندی لائن پر ہر بھارتی  حملے کے بعد ایک جملہ تواتر کے ساتھ دہراتے ہیں ۔۔ بھارت کی کسی بھی شرانگیزی کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔۔۔میری وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان  سے درخواست ہے کہ کشمیریوں کو نہ سہی کم از کم پاکستانی قوم کو ہی اعتماد میں لیکر ایک بار بتلا دیں کہ ۔۔وہ جواب کب آئے گا؟؟؟

سید قطبؒ، امام خمینیؒ اور امام عبدالوہابؒ کےشاگردوں کا نظریاتی تناؤ۔ حصہ دوم

۔
سقوط خلافت اور بعد ازاں تیل کی دولت سے مالامال ہونے والا خطہ عرب و فارس ،انقلاب ایران کے بعد مسلسل باہمی تضاد کا شکار رہا ہے۔ معاشی و مادی ترقی  کے بعدامام عبدالوہاب ؒ اور امام خمینی ؒ کے پیروکاروں نےرویہ نرم کرنے کے بجائے مزید سخت کردیا۔۔یہ حقیقت سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے اعتراف کے بعد مزید کھل کرسامنے آچکی ہے  کہ پاکستان  سمیت کئی ترقی پزیر مسلم اکثریتی ممالک میں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے یہ نظریاتی جنگ پھیلائی گئی۔دونوں قوتیں مسلمانوں کے مشترکہ  مسائل کے حل یا تعلیم و ترقی کے بجائے باہمی نفاق کو ہوا دینے کیلئے ہر سطح پر کام کرنے میں مصروف رہیں، ایک عام تاثر ہے کہ سعودی عرب اور حلیفوں کی ایران سے مخاصمت تاریخی طور پر چلی آرہی عرب و فارس  ناپسندیدگی کا ہی سلسلہ ہے، تاہم حالیہ برسوں میں عراق ،شام،لبنان و دیگرکئی عرب ممالک میں بسنے والے غیرفارسی رہنما کی ایران یا خمینیؒ کے نظریات سے وابستگی اس تاثرکو رد کرنے کیلئے کافی ہے۔اس وقت بھی جن حوثی باغیوں کیخلاف سعودی تیارکردہ ’’متحدہ اسلامی افواج‘‘ برسرِپیکار ہیں انکی پش پناہی کا الزام بھی ایران پر ہی لگایا جاتا ہے۔جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور شام میں بشاالاسداسکے اہم ترین حلیف تسلیم کئے جاتے ہیں۔ان  دونوں قوتوں کے تعلقات ستر کی دہائی سے ہی شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں اور کئی مواقع پر سنگین صورتحال رہی ، اور گزشتہ ماہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد سے ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔مشرق وسطی ٰ میں جہاں یہ دونظریاتی قوتیں اور انکے بیرونی اتحادی باہم دست و گریباں ہیں وہیں سیدقطبؒ کے روحانی فیوض سے مستفید مصر کے اخوان اور ترکی کے اردوان بھی دونوں جانب سے ایک مستقل سیاسی و مذہبی خطرے کے طور پردیکھے جاتے ہیں۔
2010ء میں تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہار جو دراصل سارے عرب حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی ایک لہر تھی، نے ایک نئے قسم کی فکر کو جنم دیا جسے اسلامی کہنا یقینا ذیادتی ہوگی۔داعش نامی تنظیم اس فکر کا مرکزی کردار قراردیا جاسکتا ہے جس نے حکمران طبقے کیخلاف اٹھنے والی تحاریک میں اسلام کے نام پر دہشتگردی ،لاقانونیت اور درندگی کی انتہاکردی۔
اس انقلاب نے شام کو بھی لپیٹ میں لیا۔ شام کے بشارالاسد کو بچانے کے لیے ایران اور حزب اللہ نے پراکسی جنگ چھیڑی۔ بشارالاسد کو بچانے کے لیے اپنے تمام مالی اور عسکری وسائل جھونک دیے۔ جب ایران کے حمایت یافتہ گروپ بھی کام نہ آسکے تو ایران کی فوج اور حزب اللہ براہِ راست جنگ میں کود پڑے اور روس بھی واحد عرب اتحادی کو بچانے کے لیے میدان میں آگیا۔
دوسری طرف سعودی عرب اورترکی نے بشارالاسد کو ہٹانے کی کوششوں کا ساتھ دیا اور  باغیوں کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کی ۔یوں خطہ پراکسی وار کا گڑھ بن گیا۔ روس اور ایران کی مداخلت کی وجہ سے بشارالاسد کو ہٹانا مشکل ہوگیا اور توازن بشارالاسد کے حق میں ہوگیا۔ ان حالات میں  داعش کے خلاف جنگ کے نام پرسعودی حلیف امریکا بھی 60 ملکوں کے اتحاد کو لے کر جنگ میں کود پڑا۔ دنیا بھر کی طاقتوں کے مفادات اور نظریات کے ٹکراؤ سے شام کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دیا گیا۔امریکا نے داعش کے خاتمے کے لیے کردوں اور چند عرب جنگجو کوملاکر سیرین ڈیموکریٹک فورس قائم کی ،اور خود براہ راست جنگ میں کو دنے کی بجائے ،ایس ڈی ایف کو داعش سے لڑنے کے لیے فضائی سپورٹ کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کی۔ امریکا اور ایس ڈی ایف داعش کو بھگانے میں کامیاب رہے اور ایس ڈی ایف نے شمالی شام پر کنٹرول مضبوط کرلیا۔مگراس صورتحال کے بعد ترکی شام کے ساتھ 570 میل سرحد پر کردوں کے زیرِ انتظام علاقے سے خائف ہوگیا۔ ترکی کے خیال میں شام کے کرد گروپ وائی پی جی اور ترکی کے گروپ پی کے کے میں رابطے ہیں جو ترکی کی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو ترکی کی خارجہ پالیسی مہاجرین کی مدد کے علاوہ بشارالاسد کو براہِ راست فوجی مداخلت کے بغیر نکال باہر کرنے تک محدود رہی لیکن تازہ صورت حال میں ترکی کی پالیسی فوجی پالیسی میں بدل چکی ہے۔ انسانی ہمدردی کے تحت ترکی نے 36 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا۔ اب بھی ترکی کی پالیسی میں شامی مہاجرین کی مدد شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ترکی چاہتا ہے کہ شامی مہاجرین کی کوئی نئی لہر پیدا نہ ہو، مزید ہجرت روکی جائے اور پہلے سے بے گھر شامی شہریوں کے لیے شام کی سرحدوں کے اندر ایک سیف زون بنایا جائے۔
 ترکی 2016ء اور 2018ء میں بھی شام کی سرحد پر فوجی کارروائیاں کرچکا ہے۔چند ہفتے قبل کی جانے والی کارروائی کا مقصد بھی ریاستی سلامتی کو قرار دیا گیا ۔ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ مہاجرین کی مدد اور نئی ہجرت کو روکنے کے چکر میں کرد گروپ اور داعش اس کی سرحد کے پاس پہنچ گئے ہیں، لہٰذا اس مسئلے کا حل فوجی طاقت کے سوا کچھ نہیں رہا۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق ترکی ،روس کے ساتھ کرد فورسز کو اپنی اور شامی سرحد سے دور رکھنے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ ۔ دونوں ممالک نے اس معاہدے کو تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے۔
یہاں واضح ہے کہ سعودی عرب ، ایران اورترکی ،تینوں کا مشترکہ مقصد یہی ہے کہ شام کو ایک دوسرے کی سیٹلائٹ ریاست بننے سے روکاجاسکے،جس کیلئے تینوں مسلم سیاسی نظریات  کے درمیان پراکسی وار جاری ہے۔ آئینی طور پر ترکی ایک سیکولر ریاست ہے،مگر صدراردوان اور انکی جماعت امام حسن البناء ؒاور سید قطب ؒ کی تعلیمات کے مداح ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صدر اردوان سعودی و ایرانی فرقہ وارانہ علاقائی پالیسیوں کا سخت مخالف ہیں۔تازہ ترین حالات کے مطابق   تینوں مسلم سیاسی تحاریک مخصوص پیرائے میں مسلمانوں کی ہی دشمن ثابت ہورہی  ہیں کیونکہ تنازع کا کوئی بھی قابل قبول حل انکے پاس نہیں ہے۔انہیں سوچناہوگا کہ اغیار کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بننے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر کسی ایک نتیجے پر پہنچے بغیرصرف امت کے  نقصان کا باعث بنتے رہیں گے ، اور ہمارے ایلان یونہی لاش کی شکل میں ساحلوں  پر ملتے رہیں گے۔

سید قطبؒ، امام خمینیؒ اور امام عبدالوہابؒ کےشاگردوں کا نظریاتی تناؤ۔ حصہ اول


جدید دنیا میں عالم اسلام اپنے مرکز پر قائم نہ رہ سکا اور پچاس سے زائد ریاستوں میں منقسم ہے۔ان میں ذیادہ ترریاستیں  قومی ، لسانی،نسلی یا دیگرغیرمذہبی نظریات پر قائم ہیں۔انکے اپنے آئین اور قوانین ہیں جو ریاستی ضروریات کے مطابق ترتیب دیئے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم  امت کو درپیش مسائل پر اجتماعی فیصلے تو درکنار یکساں فکر رکھنے کے بھی روادار نہیں۔
گوکہ چند ریاستیں اسلامی طرز ریاست رکھنے کی دعویدار ہیں تاہم گزشتہ چند دنوں میں مسلم دنیا کی صورتحال انتہائی پریشان کن منظر پیش کررہی ہے۔باہمی تناؤ میں شدید اضافہ صرف حالات و واقعات پر نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلے نظریات کی وجہ سے ہے۔اس تحریر میں میری کوشش ہوگی کہ میں ان افکار کاعمومی تعارف اور باہمی تصادم کی وجوہات پیش کرسکوں۔
۱۔
تحریک وہابیت کا آغاز اٹھارہویں صدی عیسوی میں نجد سے ہوا ۔جس کے بانی محمد ابن عبدالوہاب ؒنجدی تھے ۔انکی تحریک نے اس وقت کے مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لئے آواز بلند کی اور اتحاد اور اصلاح کے نام  پر انتہائی سخت گیر موقف اپنایا ۔وہابی فروع دین میں امام احمد ؒابن حنبل‌ کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کی اکثریت جزیرہ نمائے عرب کے مشرقی حصے میں مقیم ہے۔ وہابی قرآن اورسنت میں تأویل کی بجائے آیات اورروایات کے ظاہر پر عمل کرنے کے معتقد ہیں۔نجد کے حکمران محمد ابن سعود نے محمد ابن عبد الوہاب ؒکے نظریات کو قبول کرتے ہوئے، اس کے ساتھ عہد و پیمان باندھا جس کے نتیجے میں انہوں نے سن 1157 ہجری میں نجد اور اس کے گرد و نواح پر قبضہ کرتے ہوئے ان نظریات کو پورے جزیرہ نمائے عرب میں پھیلانا شروع کر دیا۔ ریاض کو فتح کرنے کے بعد اسے دار الخلافہ قرار دیا، جو ابھی بھی سعودی شاہی حکومت کا دار الخلافہ ہے۔ موجودہ دور میں سعودی عرب کا سرکاری مذہب وہابیت ہے، جہاں اس فرقے کے علماء کے فتووں پر حکومتی سربراہی میں عمل درآمد کیا جاتا ہے۔

1924ء میں امت مسلمہ لسانی بغاوتوں کے باعث تقسیم درتقسیم کے مراحل سے گزررہی تھی ۔اسلام کے سیاسی مرکز کے طور پر دیکھے جانے والی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوچکا تھا اور دنیا میں قومیت کی بنیاد پر جدید ریاستوں کی اصطلاحات جنم لے رہیں تھیں۔تاہم قطع خلافت کے بعداسلامی سیاسی و سماجی احیاء کی جدوجہد بھی ان نئی اصلاحات کا مقابلہ کرنے کیلئے قائم ہو چکی تھی ۔ امام حسن ؒالبناءنے 1928ء میں اخوان المسلمون کے نام سے جدید دنیا کی عظیم ترین اسلامی اصلاحاتی تحریک کا آغاز کیاجس کا فلسفہ مصر سے نکل کر کئی ممالک میں پھیل گیا ۔ خلافت کے خاتمے کے بعد حسن البناء مصر میں بڑھتے ہوئے یورپی اثر و رسوخ اور مسلمانوں کی مذہبی وتہذیبی پستی سے انتہائی مضرب تھے ۔اخوان کا بنیادی مقصد اصلاحی تبدیلی ہی ٹہرا ۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی اور مصر اس مضبوط تحریک کامرکز تھا، جنگ کے بعد فلسطین سے برطانیوی انخلاء کے دوران پیدا کی گئی صورتحال اور اسرئیلی ریاست کے قیام کے خلاف مضبوط موقف اپنانے کی وجہ سے برطانیہ نے شاہ فاروق سے مطالبہ کیا کہ اخوان کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ شاہ خود بھی اخوان المسلمون کے بڑھتے ہوئے اثر سے خائف تھا لہذا 1948ء میں ہی اسے خلاف قانون قرار دیکر ہزاروں کارکنان کو پابند سلاسل کر دیا گیاتاہم امام حسنؒ البنا ء کو گرفتار کرنے کی بجائے انہیں شہید کر دیا گیا ۔ کسی بھی نظریہ کی کامیابی کا دارومداراسکے ماننے والوں کی ثابت قدمی اور اسکے لئے کی جانے والی کوششوں پر ہوتا ہے ،یہ  قربانیاں تحریک میں خون کی مانند ہوا کرتی ہیں جو اسے جامد ہونے سے روکتی ہیں ۔ حسن ؒالبناء کے بعدسیدقطب ؒ صرف اخوان ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے تمام  جدید تحاریک کے روحانی استاد قرارپائے۔انکی تعلیمات کے ذریعے پوری دنیا میں اہل ہلال اسلام کے جدید سیاسی افکارسمجھنے  لگے۔انکانظریہ عرب و عجم تک پھیلااور زندہ رہا ،ناقدین بھی مانتے ہیں کہ  سیدقطب ؒکےعلمی و فکری اجتہاد نے جدید دنیا کی تقریبا تمام اسلامی تحاریک کو نظریاتی ایندھن فراہم کیا۔گو کہ چوراسی سالہ جدوجہد کے بعد محمدمرسی کی شکل میں حسن البناء ؒمصر میں حکمران بنے مگرسال بھر میں ہی اخوان کو اقتدار سے بےدخل کرکے دوبارہ کچل دیا گیا ،مرسی ؒشہیدکردیئے گئے۔ تاہم اس وقت اسلامی دنیا کی تقریبا ہر ریاست میں انکا سیاسی فلسفہ کسی نہ کسی انداز میں موجود ہے۔ترکی کی اے کے اے پارٹی ،صدر رجب طیب اردوان ان کے فکری شاگرد ہیں اور انکی سیاسی سوچ کے آئینہ دار بھی ۔یہ مسلم دنیا کی سب اہم نظریاتی قوت بن چکے ہیں اور پورے عالم اسلام میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

 امام خمینی ؒ جدید دنیا میں تیسرے اسلامی نظریے کے بانی خیال کئے جاتے ہیں۔سید روح اللہ موسوی خمینی المعروف امام خمینی ایران کے اسلامی مذہبی رہنما اوراسلامی جمہوریہ ایران کے بانی تھے ۔1953ء میں شہنشاہ ِ ایران رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علما نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے- عوام میں آپکی بڑھتی ہوئی پذیرائی نے تخت شاہی کو ہلا كر ركھ دىا ۔امام خمینى كو گرفتار كركے جلا وطن كر دىا ،امام ، ترکی اورعراق کے بعدفرانس منتقل ہو گئے۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی رہنمائی کرتے رہے۔ بلآخر1979میں ایران میں انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے اور ایرانی شاہی نظام کو ختم کر کے اسلامی نظام کی بنیاد رکھی۔ اسلامی نظام ولایت فقیہ کے نظریہ پر قائم ہوا۔ ایرانی انقلاب کی سب سے پہلی شرط اسلام ہے ۔ اس انقلاب کے رہبر مرجعیت دینی کے منصب پر تهے، اسکی تنظیم و ترتیب  ،کے دینی علوم کےہزار سالہ مرکزی ادارہ کے ذریعے ہوئی۔ عوام اور اس انقلاب کے بانیوں کا مقصد اسلام اور قوانین اسلامی کی حاکمیت اور استبداد داخلی اور استبداد عالمی کے چنگل سے رہائی تها۔ آج بھی ایران جدید دنیا کے اسلامی افکار سیاست کےسب سے منفرد نظام پر قائم ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دیگرنظریاتی افکار سے ٹکراؤ کی کفیت گاہے بہ گاہے ہوتی رہتی ہے ۔۔۔۔ جاری ہے

سنہرا بنگال کیوں ڈوبا؟


جدید دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کو دولخت ہوئے اڑتالیس برس بیت گئے۔ انیس سو اکہتر کی پاک بھارت جنگ کے بعدنوے ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈالے۔ تاریخ میں کبھی اتنی بڑی مسلمان فوج نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یہ شرمناک ریکارڈ بھی مملکت خداداداسلامی جمہوریہ پاکستان کے کھاتے میں آیاکہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اکثریت نے اقلیت سے آزادی حاصل کی۔ پاکستانی فوج کی شکست اور جنرل نیازی کا بھارتی جنرل ارروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کےمناظرہر محب وطن پاکستانی کے دل پر زخم کی طرح نقش ہیں۔ مجھ سمیت سانحہ ِمشرقی پاکستان  کے بعد پیداہونے والے بھی اس زخم کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔
کہتے ہیں زندہ قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں ۔ خالق خود تخلیق سے بیزار کیوں ہوئے؟ اپنوں کی بے رخی تھی یا دشمن کی چال ؟ سنہرا بنگال کیوں ڈوبا ؟ہم آج تک غلطی کا تعین ہی نہیں کرسکے۔بنگال ڈوبنے کے بعدبھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن بیٹھے۔جنرل یحییٰ خان سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کرکےقوم سے وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے زمہ داروں کے تعین کرکے سزا دی جائے گی۔کمیشن بنا، اس نے رپورٹ دی، ذمہ داروں کا تعین بھی کیا گیا۔مگر ’’مجھے لوگ نہیں زمین چاہیے ‘‘ کہنے والے ، بھی بچ گئے اور ’’میں ان بنگالیوں کی نسل بدل دوں  ‘‘ کہنے والا بھی ، کمان سنبھالنےپر ’’حرم کی  کمان‘‘ دینے کی فرمائش کرنے والے بھی طبعی موت مرےاوراکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ دفنائے گئے۔ سزا کمیشن بنانے والے کےسوا کسی کو نہ ملی ۔
بھارت نے معصوم بنگالی بھائیوں کو ہم سے بدزن کیا ۔ہندوبنیے نے پہلے سول کپڑوں میں اپنی فوج ’’مکتی باہنی‘‘ کی شکل میں مشرقی پاکستان میں داخل کی اور پھر باقاعدہ حملہ کر کے ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا۔کیا پاکستان بنانے والوں کی علیحدگی کی بس یہی کہانی تھی کہ وہ بہ آسانی دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے اور بلآخردشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگیا؟۔۔۔آخر ہم کب تک مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں یہ کہانیاں بچوں کو پڑھا کرحقائق پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟۔۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگال کے زخموں پر رستے خون پر کبھی مرہم لگایا ہی نہیں گیا،بلکہ متواترنمک پاشی کی جاتی رہی ۔فوجی سے کہیں زیادہ یہ سیاسی شکست تھی جو غلط سماجی و سیاسی فیصلوں کے نتیجہ میں ہوئی۔ بیشک اس میں بین الاقوامی سازش کا عنصر شامل تھا مگر اصل کردار اپنوں کی نادانیوں کا ہی تھا۔برگیڈئیرصدیق سالک ، برگیڈئیراے آرصدیقی ،میجرافضل خان،قطب الدین عزیزاور خود جنرل  نیازی سمیت اس کہانی سے جڑے بیسیوں  کردار روشنی ڈال چکے ہیں کہ اس سانحے میں کس کا کیا کردار تھا۔یہ واضع ہے کہ محمد علی بوگرہ تک بنگالیوں کی مدہم سی امید باقی تھی ۔مگرایوبی آمریت میں مشرقی پاکستانیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا،انہیں محکوم بنائے رکھنے کی کتنی کوششیں ہوئیں،کون کس موقع پر کیا کرتا رہا ۔ افسوس کہ پاکستان نے اس سانحہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کی اور ملک کے سارے ادارے اس عظیم سانحے کے حصے دار بنتے چلے گئے۔
ہم نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ وہ شیخ مجیب الرحمان جو تحریک پاکستان کا سرگرم کارکن تھا، جو قائداعظمؒ کا ایک سپاہی تھا ،وہ پاکستان کا دشمن کیسے بنا؟
کیا کوئی سیاستدان یا دانشور یہ اعتراف کرنے کی جرت رکھتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمان 1964ء تک محترمہ فاطمہ جناحؒ کو اپنا لیڈر سمجھتا تھا اور اس نے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کا بھرپور ساتھ دیا لیکن جنرل ایوب خان نے قائداعظمؒ کی بہن کو بھارتی و امریکی ایجنٹ قرار دے کر دھاندلی سے الیکشن میں ہرا دیا۔ اس دھاندلی نے پاکستان توڑنے کی بنیاد رکھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنرل ایوب خان نے کچھ علماء کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف فتویٰ دلایا کہ عورت کی حکومت غیر اسلامی ہے لیکن شیخ مجیب سمیت ولی خان اور مولانا مودودی ؒنے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔
کیا 1966ء کا اگرتلہ کیس ملک کیخلاف غداری کی بنیاد تھا یا اس کیس سے جڑے کرداروں کو عام معافی دلوانا؟۔ کوئی کیوں نہیں بتاتا کہ اگرتلہ سازش حقیقت تھی تو اسکے کرداروں کو کیوں معاف کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کا موقع فراہم کیا گیا؟
حقیقت یہی تھی کہ  1970ء کے انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی ،لیکن  جنرل یحییٰ خان اور مغربی پاکستان کے لیڈران خصوصا بھٹو نے بنگالی وزیراعظم قبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے ڈھاکہ جانے والے کی ٹانگیں توڑنے تک کا اعلان کیا ۔ عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے انکے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیاگیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب بھارت کو مشرقی پاکستان میں مداخلت کا موقع ملا اور بھارت نے مکتی باہنی کی مدد شروع کر دی۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مجیب آخری وقت تک محب وطن رہا۔راجہ انارخان   جنہیں مجیب الرحمان کے ہمراہ اسیری میں بطور کور رکھا گیاوہ آج بھی شہادت دیتے ہیں کہ مجیب پاکستان ٹوٹنے کی خبرپر کئی دن تک روتا رہا، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا؟کیا گزشتہ اڑتالیس دسمبروں کی سولہویں شام کو ہم نے کبھی سوچا کہ؟ بطور ایک شہری ،میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم نے نہیں سوچا،ہم آج بھی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے ہونے والے نقصانات کو دوسروں کےسرتھوپنے کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ آج بھی ہماری ہرناکامی کی وجہ امریکی ،بھارتی یا یہودی سازش ،اورہر کوتاہی دشمن کی کمینگی قراردی جاتی ہے۔۔۔اگر ہم خود کوزندہ قوم کہلوانا چاہتے ہیں تو  ہمیں سوچنا ہوگا ، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگاکہ بنگال دشمن کی چالاکی سے نہیں ،ہماری کوتاہیوں سے ڈوبا۔۔۔۔۔۔۔!!

حکومت جاگے گی یا جائے گی؟


سیاسی مخالفین کیخلاف تلخ رویہ ،چور،اچکےڈاکواورتذہیک آمیزالقابات سےپکارنا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اور حالات و واقعا ت پر نظر رکھنے والے جانتے اور مانتے ہیں کہ موجودہ حکمران جماعت جس قدر غیر لچکدار رویہ اپنائے ہوئے ہے ، وزیراعظم  اور انکے چند اہم وزراءسیاسی مخاصمت کو اس نہج پر لے جاچکے ہیں جس کے بعد ملک میں موجودہ سیاسی کشمکش میں مزیداضافہ ہوسکتا ہے۔
ابتدامیں حکومت نے مولانا کے اعلانات اور مطالبا ت پر کان نہیں دھرا، یہی سمجھا گیا کہ انہیں ’’سنبھال ‘‘ لیا جائے گا ۔وزراء اور مشیران روایتی شغل بیانیوں میں مصروف رہے۔مگر جب بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر محسوس ہوئی تو بھاری بھرکم مذاکراتی کمیٹی بنی اور ایک معاہدہ طے کرکے دوبارہ پرانی پٹری پر آگئے۔یہی نہیں معاہدے کے باوجود پے درپے دوواقعات نے بداعتمادی کی لہر کو جنم دیا ۔ملکی تاریخ میں سیاسی مخالفین کو غدار اور ملک دشمن قرار دینے کی روایت تو طویل داستان رکھتی ہے مگر ایک سینیٹرکی شہریت  سے ہی انکار پہلی بار ہوا۔میڈیا رپورٹس اور پھرعدالتی  احکامات کے بعدحکومتی زعماء کی سطحی سوچ عیاں ہونے پر بھی سبکی مقدرٹھہری۔بہرکیف مولانا اسلام آباد آئے  تیرہ روز قیام کیا اور اب انکا دھرنا پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔بڑی بڑی شاہرایں بند کی جارہی ہیں، مگر حکومت کی غلط فہمی اب بھی ہوا نہیں ہوئی،بلکہ آئے روز نت نئی طرز کے بیانات اوربدانتظامیوں کی صورت ،ایک دوسرے سے دامن چھڑاتی ،دورہٹتی اپوزیشن کو  دوبارہ متحد کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔پوری اپوزیشن گزشتہ عام انتخابات اور اسکے بعد بننے والی حکومت کو ناجائز سمجھتے ہے۔مولانا فل فوروزیراعظم کا استعفیٰ ،موجودہ اسمبلیوں کی  تحلیل اور نئے عام انتخابات کے مطالبات پرڈٹے ہوئے ہیں ۔گوکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ   بھی ان مطالبات کے حامی ہیں مگر تصادم کی صورتحال سے بچنا چاہتےہیں مگرکب تلک ؟ جمعیت علمائے اسلام تمام تر معاملات پر حتمی کمانڈ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہےاور اب پلان بی کے تحت تقریبا تنہامصروف عمل ہے۔ دھرنے میں شریک خیبرپختوانخوا اور بلوچستان کی اکثرسیاسی قوتیں بھی مولانا کی مکمل حمایت کرتی نظر آرہی ہیں۔ صاف واضح ہے کہ حکومت کیلیے پریشانیوں اور خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔وزیراعظم اور انکے کلیدی وزراء متواتر کہتے آئے ہیں کہ یہ احتجاج نوازشریف ، آصف زرداری سمیت دیگررہنماؤں کی کرپشن بچانے کیلئے ترتیب دیا گیا۔وزیراعظم بارہا فرما چکے کہ یہ کرپٹ رہنمااپنے پیسے اور عوامی طاقت کی بناء پر این آر او کرنا چاہتے ہیں۔اور سابقہ ادوار میں انہی رہنماؤں کے ناموں کی تسبیح پھیرنے والے ’’موجودہ وزراء ‘‘بھی یہی منتر دہرا تے نظر آتے ہیں ۔مگر ظاہر یہ ہورہا ہےکہ موجودہ حکومت کی پٹاری سے گزشتہ تیرہ ماہ میں سوائے ’’گزشتہ حکومت یا حکمرانوں‘‘ کے اور کچھ نہیں نکلا۔ مجموعی طورپرملکی حالات حکومت کا ساتھ نہیں دے رہے ،کیونکہ اپنے ووٹرز کے سامنے سیاسی مخالفین کے احتجاج کو تو این آر او کا نام دے کر جی کو بہلانے والا خیال اچھا ہے مگر ملک بھر کے دکاندار تاجر بھی حکومتی معاشی پالیسیوں کیخلاف دو دن کاروبار کو تالہ لگا کر بیٹھے رہے ۔ مخالف کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے آتے ہی جہاں سیاسی مخالفین کے گرد احتساب کا گھیرا تنگ کیا وہیں پہلے اسد عمر اور عبدالحفیظ شیخ کی اشکال میں وزرائے خزانہ لگا کرپاکستانی عوام سے ناکردہ گناہوں کا بھرپور بدلہ لیا جارہاہے۔سرکار سے عقیدت کی بناء پر  یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ سیاسی مخالفین اپنے اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کیلئے سڑکوں پر ہیں ۔ مگر ڈاکٹرز سڑکوں پر ہیں، دوا ساز کمپنیاں  ہرتالیں کررہی ہیں، زرعی صورتحال پر کسان پریشان اورماتم کناں ہیں، اساتذہ چند روز قبل بےدردی سے پیٹے گئے۔ کپڑے کی صنعتیں تباہ پڑی ہیں ،محترم وزیراعظم یہ طبقات کون سا این آر او مانگ رہے ہیں جو احتجاج پر ہیں؟  سبزیوں خصوصا ٹماٹر کی قیمت ایک زرعی ملک کی حکومت کی کارکردگی کا منہ چڑارہی ہے۔ مگر وزیراعظم صاحب اور انکی ٹیم کے پاس یقینا اسکا جواب بھی جادوئی منتر ۔۔۔ ’’گزشتہ حکومتیں‘‘ ہی ہوگا۔
مولاناسیاسی طریقے معاملات حل کرنے کے متمنی تھے مگر وزیراعظم اور انکی اہم رفقاء کے بیانات اور رویے نے انہیں مزیدزچ کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا غصہ عروج پر ہے۔یہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکارکرچکے ہیں ۔اس صورتحال میں کلیدی کردار حکومتی اتحادی اورپنجاب کے مفاہمتی گروچوہدری  برادران کا ہے۔ مگر تاریخ بتلاتی ہے کہ چوہدری صاحبان جن مذاکرات میں پڑے ،انجام خیر نہ ہوا، چاہے اکبر بگٹی  ہوں یالال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز۔۔تاہم مجھ سمیت ہر محب وطن پاکستانی کی خواہش ،امید اور دعا ہے کہ تاریخ اس بار خود کو نہ دہرائے ۔
حکمران جماعت کی غیرسنجیدگی ،چند اہم وزراء کا حیران کن حد تک لایعنی بیانیہ اور کارکردگی کے نام پر صرف گزشتہ حکومتوں کے راگ۔۔مجموعی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ شاید لانے والے بھی اب پچھتانے لگے ہیں،اب یہ حکومت پر ہے کہ۔۔۔یہ  جاگے گی یا جائے گی۔۔۔۔!!

نقصان کس ہوگا


بیمار نواز شریف پر ٹچکلیں تو بہت کی گئیں ۔ مرحوم اہلیہ کی طرح انکی بیماری کا بھی بھرپور ٹھٹہ اڑیا گیا۔مخصوص وزراروز گویا ڈاکٹری ہدایت کے مطابق سابق وزیراعظم کا تذکرہ کرتے ،اور ڈیل اور ڈھیل نہ دینے کے عزم کا اعادہ بھی فرماتے رہے ۔مگر چند روز قبل نوازشریف کی تشویشناک حالت میں جیل سے اسپتال منتقلی اور اسکے بعد کئی گھنٹوں تک بگڑتی صورتحال نے پوری حکومت کو ہلا کررکھ دیا۔ابتدائی رپورٹس پر وزیراعظم عمران خان نہ صرف پریشان ہوئے بلکہ انہیں شاید شک گزرا کہ پنجاب کے ڈاکٹر ن لیگ یا شریفوں سے تعلق کی بناء صحت سے متعلق معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں، اس لئے کراچی سے ایک ماہرڈاکٹر کو بلوایا گیا اور مزید تشفی کیلئے اپنے اسپتال کے سربراہ کو بھی سابق وزیراعظم کے معائنے کیلئے بھیجا گیا۔
ماہرمعالجین کی شب و روزمحنت سےنوازشریف کی صحت تو قدرے سنبھل گئی مگر اس دوران زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ تی نظر آئی ۔ اسی لئے حیران کن انداز میں سابق وزیراعظم  اور انکے خاندان کے اسیررہنماؤں کو  ضمانتیں ملیں اور اس سرکار کی مکمل کوشش تھی کہ کسی بھی طرح نوازشریف کو ملک سے باہر بھجوادیا جائے،جو ڈھیل دے رہی تھی نہ ڈیل ۔مگر سوشل میڈیا پر اٹھنے والے طوفان نے حکومت کو ایک بار پھر یوٹرن کی ضرورت  واہمیت سے آشنا کیا ۔وہی حکومت جو جلدازجلدنوازشریف سےچھٹکارا پانے کی متمنی تھی ، اس سوچ میں پڑ گئی کہ  سابق وزیراعظم کو بیرون ملک بھجوانے کاالزام سرپر کون لے؟عدالت نے معاملہ حکومت پر چھوڑا، حکومت نے نیب کو بھیجااور نیب نے پھر حکومت کو۔۔۔ایک بار پھر بال اپنی طرف آتی دیکھ کر کپتان سرکار نے چھکا لگانے کوشش کی اور نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کیلئے شورٹی بانڈ مانگ لئے۔اس معاملے کو سیاسی مشق کا بھرپور میدان بنا لیا گیا ۔دوسری جانب ن لیگ بھی نوازشریف کی صحت کے بجائے سیاست کو فوقیت دے رہی ہےمگرحقیقت یہی ہے کہ  سابق وزیراعظم کوخدا نخواستہ کچھ ہو جاتا ہے اسکا سیاسی نقصان  مسلم لیگ نہیں حکومت کو ہوگا۔نہ صرف پنجاب کو بھٹو مل جائےگا بلکہ تبدیلی  سرکار کی حکومت جانا بھی طے ہوگااور کئی اہم رہنماؤں کی شاید سیاست ہی تمام ہوجائے۔
دوسری طرف سابق صدر آصف زرداری کی صحت بھی تشویشناک ہے ۔سابق صدر جعلی اکاؤنٹس کیس میں تحقیقات کیلئے گزشتہ کئی ماہ سےنیب کی حراست میں ہیں۔یہ اب تک ملزم ہیں ،ان پر کوئی جرم اب تک ثابت نہیں ہوا  تاہم حکومت انکے ساتھ بھی نوازشریف جیسا سلوک کررہی ہے۔ خود اہم وزراء اعتراف کرچکے ہیں کہ زرداری کی حالت نہایت خراب ہے مگر اسکے باوجود بلاول کی بارہادرخواستوں پر بھی سابق صدر کیلئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈ نہیں بنایا جارہا ۔
وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت کا بیانیہ کرپشن اور کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ہے ۔عام ووٹراس بیانیےکیلئے ہر تکلیف سہنے کو تیار ہے،مہنگائی ،بدانتظامی ہویا دیگرمعاملات، انصافی ہر معاملہ صرف نظر کرنے کو تیار ہیں مگریہ عمران خان کےبیانیے پر کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتے۔یہ ناقابل برداش یوٹرن ہوگا۔ یہی اس پورے منظر نامے کا اہم ترین پہلویہ   ہے ۔ مگر دلچسپ صورتحال یہ ہے  کہ موجودہ کابینہ کے بیشرارکان مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے ادوار میں بھی کابینہ میں شامل رہے، یہاں سوال یہ ہے کہ اگر کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر نوازشریف اور آصف زرداری  کومرضی سے علاج کرانے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ، مان لیا جائے کہ دونوں کرپٹ  بھی ہیں تو کیا وہ بغیر وزراء کی امداد کے ایسا کرنے پر قادر تھے؟ اگر نہیں توآخروہ کیا پیمانہ ہے جسکی بنیادپر انکے ادوار میں وزارتوں میں رہنے والے زعماء اب بھی قابل اعتبار ہیں؟
میری رائے میں یہ وقت نوازشریف ،زداری یا دیگر اپوزیشن رہنماؤں کیلئے نہیں بلکہ خود وزیراعظم عمران خان  کیلئے مشکل  ہے۔مشکل بیانیے کا انتخاب انہیں بندگلی کی جانب دکھیل رہا ہے ۔ خدا نخواستہ کسی بھی اسیررہنما کو کچھ ہوا تو اسکی ذمہ داری اور سیاسی نقصان انہی کے سرہوگا۔ وزیراعظم صاحب  کو جذباتی بیانیے پر مصلحت کو حاوی کرنا ہوگا اور مخلص دوستوں کے مشوروں پر عمل کرکے اپنے لئے سہل راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ورنہ سیاسی پرندے جو کبھی جنرل مشرف، آصف زرداری یا نوازشریف کےآنگن میں چہچہاتے تھے، کل کسی اور آنگن کی زینت بننے میں  کیونکر تردد کرینگے ۔

ُملک بڑا یاَملک

قوموں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ شخصیت پسندی  یا شخصیت پرستی ہوتی ، اور یقینا ہم پاکستانی بہ حثیت قوم اس عارضہ میں بری طرح لاحق ہیں۔شخصیت مذہبی ہو یا سیاتی ، سماجی ہو یا عسکری ۔۔۔ہم ہر کسی کے سحرمیں ایسے گرفتار ہوتے ہیں کہ انہیں ہر قسم کی غلطی و کوتاہی سے ماورا تصور کرکے،آنکھوں دیکھا بھی ردکردیاکرتے ہیں۔اب وہ قائداعظم ؒہوں،مولانا موددی  ؒ، ایوب خان ہوں یا پرویزمشرف ،بھٹو ہوں یا نوازشریف یا پھر عمران خان ۔ہر کسی کا حلقہ ِشائقین انہیں تمام تر معاملات میں کامل تصور کرتا ہے اور کسی بھی غلطی کو چاہے جتنا بھی قریب سے دیکھ لے، انکے دفاع میں کوئی نہ کوئی عذر تراش لینا قطعا مشکل  کام نہیں۔ تاہم مملکت ِ خداداد میں ایک ایسی کرشماتی شخصیت بھی جلوہ افروز ہے جوبلاشرکت غیر تمام سیاسی،سماجی،مذہبی و عسکری گرہوں کیلئے ’’محرم ‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔حکومتیں آتی جاتی رہیں،اقتدار کے تمام کھلاڑی ایک دوسرے کو چور،کرپٹ اور غدارقراردیتے رہے مگرگزشتہ کئی دہائیوں سے ملک ریا ض حسین سب کی پہلی پسندبنے رہے ۔اورانکاخاموش اقتدار جاری آج تک جاری ہے۔
گزشتہ دنوں برطانوی کرائم ایجنسی این سی اےنےاعلامیہ جاری کیا جس میں پاکستان کے بزنس ٹائیکون ملک ریاض حسین سے عدالت کے باہر سیٹلمنٹ کے تحت 190 ملین پائونڈ سٹرلنگ کی وصولی کا ذکر تھا۔اس پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ نمبر ایک ہائیڈ پارک کی جائیداد اور آٹھ بنک اکائونٹس منجمد کر کے یہ رقم وصول کی گئی۔ تفصیلات سامنے آئیں تو پتہ چلا کہ  ملک صاحب نے ون ہائیڈ پارک کی یہ جائیداد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز سے خریدی اور آٹھ بنک اکائونٹس کی مشکوک ٹرانزیکشن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ملک ریاض حسین نے ازخود وضاحت جاری کر کے این سی اے کے پریس ریلیز کی تائید کی ۔انہوں نے پشاور میں بحریہ ٹاؤن دفتر کے افتتاح کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ میں نے سپریم کورٹ کو کراچی بحریہ ٹاؤن مقدمے میں 19 کروڑ پاؤنڈ کے مساوی رقم دینے کے لیے برطانیہ میں قانونی طور پر حاصل کی گئی ،ظاہر شدہ جائیداد کو فروخت کیا۔ ملک ریاض نے رواں برس مارچ میں پاکستان کی سپریم کورٹ کو بھی 460 ارب روپے کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بدلے عدالتِ عظمیٰ نے ان کے خلاف کراچی کے بحریہ ٹاؤن سے متعلق تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایجنسی این سی اےکا اعلامیہ اور اس پر ملک ریاض کا ردعمل الگ بحث ہے مگر اس پاکستانی اداروں کے تاثرات انتہائی قابل غور ہیں ۔نمبر ایک پاکستان کا تمام ’‘آزادمیڈیا‘‘،تمام چینلز اور اخبارات نے اس خبر کو نشر اور شائع کرتے ہوئے ملک ریاض کا نام گول کر دیا۔جیسا عام دیہاتی خواتین خاوند اور منگیتر کا نام لیتے ہوئے شرماتی اور "اُن" کا استعارہ استعمال کرتی ہیں۔ہمارے میڈیا نے بھی ملک صاحب کے نام کے بجائے ’’ایک پاکستانی شخصیت‘‘  کےذکرکے ساتھ خبریں چلائیں۔بیشک میڈیا کو بھی تجارتی مفادات مقدم ہوتے ہیں ،ہر ادارے میں بعض مقامات اور اشخاص شجر ممنوعہ ہوتے ہیں مگر سارے ہی حریت پسند چوکڑی بھول جائیں؟  وہ جو ایک دوسرے پر سیاسی ٹاؤئٹ ،بدعنوانی یہاں تک کہ غداری  کے فتوے بھی صادر کرتے کوئی عار محسوس نہیں کرتے وہ سب ایک شخصیت کیلئے اس قدر حساس کیسے ہوگئے؟ یہ کیسی پابندی ہے  جسکے لئے نہ وفاق کا کوئی دباؤ ہے نہ نادیدہ قوتوں کا۔گوکہ کچھ صحافی اپنی ذاتی حثیت میں ملک ریاض پر تنقید تو کرتے پائے گئے مگر آزادی ِ صحافت کےیہ  علمبردار  اپنے میڈیا ہاؤسز کو آزاد کرانے پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟
ملک کے موجودہ وزیراعظم سے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہےکہ وہ  کرپشن کیخلاف جہاد میں مصروف ہیں، انکی ہرتقریر کا آغازو اختتام کرپشن،بدعنوانی اورغیرقانونی ذرائع سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی پر ہی ہوتا ہے۔ برطانیہ سے اس رقم کی واپسی بھی مبینہ طور پر وزیراعظم عمران خان کی ٹیم ہی کی کوششوں کا نتیجہ قراردی جارہی ہے۔مگرسب سے ذیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نہ صرف وزیراعظم خود اس معاملے پر خاموش ہیں بلکہ اپنی کابینہ کو بھی سختی سے زبان بندی کی ہدایت کررکھی ہے ۔گزشتہ پندرہ ماہ سے سیاسی مخالفین پر درجنوں نہیں سیکڑوں الزامات لگائے،اب تک کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا مگر اسکےباجودباربار دہرائے   جارہے ہیں ،مگر جوصاحب نہ صرف رنگے ہاتھوں پکڑےگئےاور رقم بھی وطن واپس آگئی تو یہ خاموشی کیوں؟ کیا کرپشن اور غیرقانونی پیسےکیخلاف ساری محنت  محض اپوزیشن کیخلاف سیاسی اسکورنگ ہے یا ملک ریاض صاحب کیخلاف لب کشائی سے خوف محسوس ہوتا ہے۔وزیراعظم صاحب کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے ۔اورمجھے اور ہر پاکستانی شہری کو سچ کے پردے میں لپٹے اس جھوٹ سے سوفیصد اختلاف ہے۔
پردہ داری کے باجودیہ حقیقت عیاں ہے کہ یہاں صدر ووزرائے اعظو ں کو جیلوں میں ڈالاجاسکتاہے۔ چیف جسٹس کو سڑکوں پر گھسیٹا جاسکتا ہے،آرمی چیف کو گرفتار کرکے قیدتنہائی میں ڈالا جاسکتا۔دہائیوں تک  دن رات ملکی دفاع میں جٹے رہنے والاایٹمی سائنسدان متنازع قرار دیکردیوار سے لگایاجاسکتا ہے ۔مگر۔ہماری اسٹبلشمنٹ کیلئے شاید۔َملک کاقد ُملک سےبھی بڑا ہے۔