سنہرا بنگال کیوں ڈوبا؟
جدید دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کو دولخت ہوئے اڑتالیس برس بیت گئے۔ انیس سو اکہتر کی پاک بھارت جنگ کے بعدنوے ہزار فوجیوں نے ہتھیار ڈالے۔ تاریخ میں کبھی اتنی بڑی مسلمان فوج نے ہتھیار نہیں ڈالے۔ یہ شرمناک ریکارڈ بھی مملکت خداداداسلامی جمہوریہ پاکستان کے کھاتے میں آیاکہ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اکثریت نے اقلیت سے آزادی حاصل کی۔ پاکستانی فوج کی شکست اور جنرل نیازی کا بھارتی جنرل ارروڑہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کےمناظرہر محب وطن پاکستانی کے دل پر زخم کی طرح نقش ہیں۔ مجھ سمیت سانحہ ِمشرقی پاکستان کے بعد پیداہونے والے بھی اس زخم کے درد کو محسوس کرتے ہیں۔
کہتے ہیں زندہ قومیں اپنی غلطیوں سے سیکھتی ہیں ۔ خالق خود تخلیق سے بیزار کیوں ہوئے؟ اپنوں کی بے رخی تھی یا دشمن کی چال ؟ سنہرا بنگال کیوں ڈوبا ؟ہم آج تک غلطی کا تعین ہی نہیں کرسکے۔بنگال ڈوبنے کے بعدبھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن بیٹھے۔جنرل یحییٰ خان سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کرکےقوم سے وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے زمہ داروں کے تعین کرکے سزا دی جائے گی۔کمیشن بنا، اس نے رپورٹ دی، ذمہ داروں کا تعین بھی کیا گیا۔مگر ’’مجھے لوگ نہیں زمین چاہیے ‘‘ کہنے والے ، بھی بچ گئے اور ’’میں ان بنگالیوں کی نسل بدل دوں ‘‘ کہنے والا بھی ، کمان سنبھالنےپر ’’حرم کی کمان‘‘ دینے کی فرمائش کرنے والے بھی طبعی موت مرےاوراکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ دفنائے گئے۔ سزا کمیشن بنانے والے کےسوا کسی کو نہ ملی ۔
بھارت نے معصوم بنگالی بھائیوں کو ہم سے بدزن کیا ۔ہندوبنیے نے پہلے سول کپڑوں میں اپنی فوج ’’مکتی باہنی‘‘ کی شکل میں مشرقی پاکستان میں داخل کی اور پھر باقاعدہ حملہ کر کے ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا۔کیا پاکستان بنانے والوں کی علیحدگی کی بس یہی کہانی تھی کہ وہ بہ آسانی دشمن کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے اور بلآخردشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہوگیا؟۔۔۔آخر ہم کب تک مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں یہ کہانیاں بچوں کو پڑھا کرحقائق پر پردہ ڈالتے رہیں گے؟۔۔ حقیقت یہ ہے کہ بنگال کے زخموں پر رستے خون پر کبھی مرہم لگایا ہی نہیں گیا،بلکہ متواترنمک پاشی کی جاتی رہی ۔فوجی سے کہیں زیادہ یہ سیاسی شکست تھی جو غلط سماجی و سیاسی فیصلوں کے نتیجہ میں ہوئی۔ بیشک اس میں بین الاقوامی سازش کا عنصر شامل تھا مگر اصل کردار اپنوں کی نادانیوں کا ہی تھا۔برگیڈئیرصدیق سالک ، برگیڈئیراے آرصدیقی ،میجرافضل خان،قطب الدین عزیزاور خود جنرل نیازی سمیت اس کہانی سے جڑے بیسیوں کردار روشنی ڈال چکے ہیں کہ اس سانحے میں کس کا کیا کردار تھا۔یہ واضع ہے کہ محمد علی بوگرہ تک بنگالیوں کی مدہم سی امید باقی تھی ۔مگرایوبی آمریت میں مشرقی پاکستانیوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا گیا،انہیں محکوم بنائے رکھنے کی کتنی کوششیں ہوئیں،کون کس موقع پر کیا کرتا رہا ۔ افسوس کہ پاکستان نے اس سانحہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کی اور ملک کے سارے ادارے اس عظیم سانحے کے حصے دار بنتے چلے گئے۔
ہم نے آج تک یہ نہیں سوچا کہ وہ شیخ مجیب الرحمان جو تحریک پاکستان کا سرگرم کارکن تھا، جو قائداعظمؒ کا ایک سپاہی تھا ،وہ پاکستان کا دشمن کیسے بنا؟
کیا کوئی سیاستدان یا دانشور یہ اعتراف کرنے کی جرت رکھتا ہے کہ شیخ مجیب الرحمان 1964ء تک محترمہ فاطمہ جناحؒ کو اپنا لیڈر سمجھتا تھا اور اس نے صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناحؒ کا بھرپور ساتھ دیا لیکن جنرل ایوب خان نے قائداعظمؒ کی بہن کو بھارتی و امریکی ایجنٹ قرار دے کر دھاندلی سے الیکشن میں ہرا دیا۔ اس دھاندلی نے پاکستان توڑنے کی بنیاد رکھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنرل ایوب خان نے کچھ علماء کے ذریعہ محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف فتویٰ دلایا کہ عورت کی حکومت غیر اسلامی ہے لیکن شیخ مجیب سمیت ولی خان اور مولانا مودودی ؒنے فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔
کیا 1966ء کا اگرتلہ کیس ملک کیخلاف غداری کی بنیاد تھا یا اس کیس سے جڑے کرداروں کو عام معافی دلوانا؟۔ کوئی کیوں نہیں بتاتا کہ اگرتلہ سازش حقیقت تھی تو اسکے کرداروں کو کیوں معاف کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کا موقع فراہم کیا گیا؟
حقیقت یہی تھی کہ 1970ء کے انتخابات میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی ،لیکن جنرل یحییٰ خان اور مغربی پاکستان کے لیڈران خصوصا بھٹو نے بنگالی وزیراعظم قبول کرنے سے انکارکرتے ہوئے ڈھاکہ جانے والے کی ٹانگیں توڑنے تک کا اعلان کیا ۔ عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے کی بجائے انکے خلاف فوجی آپریشن شروع کر دیاگیا۔ یہ وہ مرحلہ تھا جب بھارت کو مشرقی پاکستان میں مداخلت کا موقع ملا اور بھارت نے مکتی باہنی کی مدد شروع کر دی۔مگر تاریخ بتاتی ہے کہ مجیب آخری وقت تک محب وطن رہا۔راجہ انارخان جنہیں مجیب الرحمان کے ہمراہ اسیری میں بطور کور رکھا گیاوہ آج بھی شہادت دیتے ہیں کہ مجیب پاکستان ٹوٹنے کی خبرپر کئی دن تک روتا رہا، مگر کیا ہم نے کبھی سوچا؟کیا گزشتہ اڑتالیس دسمبروں کی سولہویں شام کو ہم نے کبھی سوچا کہ؟ بطور ایک شہری ،میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم نے نہیں سوچا،ہم آج بھی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے ہونے والے نقصانات کو دوسروں کےسرتھوپنے کی روش اپنائے ہوئے ہیں۔ آج بھی ہماری ہرناکامی کی وجہ امریکی ،بھارتی یا یہودی سازش ،اورہر کوتاہی دشمن کی کمینگی قراردی جاتی ہے۔۔۔اگر ہم خود کوزندہ قوم کہلوانا چاہتے ہیں تو ہمیں سوچنا ہوگا ، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگاکہ بنگال دشمن کی چالاکی سے نہیں ،ہماری کوتاہیوں سے ڈوبا۔۔۔۔۔۔۔!!

0 comments:
Post a Comment