حکومت جاگے گی یا جائے گی؟
سیاسی مخالفین کیخلاف تلخ رویہ ،چور،اچکےڈاکواورتذہیک آمیزالقابات سےپکارنا۔پاکستان کی سیاسی تاریخ اور حالات و واقعا ت پر نظر رکھنے والے جانتے اور مانتے ہیں کہ موجودہ حکمران جماعت جس قدر غیر لچکدار رویہ اپنائے ہوئے ہے ، وزیراعظم اور انکے چند اہم وزراءسیاسی مخاصمت کو اس نہج پر لے جاچکے ہیں جس کے بعد ملک میں موجودہ سیاسی کشمکش میں مزیداضافہ ہوسکتا ہے۔
ابتدامیں حکومت نے مولانا کے اعلانات اور مطالبا ت پر کان نہیں دھرا، یہی سمجھا گیا کہ انہیں ’’سنبھال ‘‘ لیا جائے گا ۔وزراء اور مشیران روایتی شغل بیانیوں میں مصروف رہے۔مگر جب بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر محسوس ہوئی تو بھاری بھرکم مذاکراتی کمیٹی بنی اور ایک معاہدہ طے کرکے دوبارہ پرانی پٹری پر آگئے۔یہی نہیں معاہدے کے باوجود پے درپے دوواقعات نے بداعتمادی کی لہر کو جنم دیا ۔ملکی تاریخ میں سیاسی مخالفین کو غدار اور ملک دشمن قرار دینے کی روایت تو طویل داستان رکھتی ہے مگر ایک سینیٹرکی شہریت سے ہی انکار پہلی بار ہوا۔میڈیا رپورٹس اور پھرعدالتی احکامات کے بعدحکومتی زعماء کی سطحی سوچ عیاں ہونے پر بھی سبکی مقدرٹھہری۔بہرکیف مولانا اسلام آباد آئے تیرہ روز قیام کیا اور اب انکا دھرنا پورے ملک میں پھیل رہا ہے۔بڑی بڑی شاہرایں بند کی جارہی ہیں، مگر حکومت کی غلط فہمی اب بھی ہوا نہیں ہوئی،بلکہ آئے روز نت نئی طرز کے بیانات اوربدانتظامیوں کی صورت ،ایک دوسرے سے دامن چھڑاتی ،دورہٹتی اپوزیشن کو دوبارہ متحد کرنے میں کامیاب رہتی ہے۔پوری اپوزیشن گزشتہ عام انتخابات اور اسکے بعد بننے والی حکومت کو ناجائز سمجھتے ہے۔مولانا فل فوروزیراعظم کا استعفیٰ ،موجودہ اسمبلیوں کی تحلیل اور نئے عام انتخابات کے مطالبات پرڈٹے ہوئے ہیں ۔گوکہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ بھی ان مطالبات کے حامی ہیں مگر تصادم کی صورتحال سے بچنا چاہتےہیں مگرکب تلک ؟ جمعیت علمائے اسلام تمام تر معاملات پر حتمی کمانڈ اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہےاور اب پلان بی کے تحت تقریبا تنہامصروف عمل ہے۔ دھرنے میں شریک خیبرپختوانخوا اور بلوچستان کی اکثرسیاسی قوتیں بھی مولانا کی مکمل حمایت کرتی نظر آرہی ہیں۔ صاف واضح ہے کہ حکومت کیلیے پریشانیوں اور خطرات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔وزیراعظم اور انکے کلیدی وزراء متواتر کہتے آئے ہیں کہ یہ احتجاج نوازشریف ، آصف زرداری سمیت دیگررہنماؤں کی کرپشن بچانے کیلئے ترتیب دیا گیا۔وزیراعظم بارہا فرما چکے کہ یہ کرپٹ رہنمااپنے پیسے اور عوامی طاقت کی بناء پر این آر او کرنا چاہتے ہیں۔اور سابقہ ادوار میں انہی رہنماؤں کے ناموں کی تسبیح پھیرنے والے ’’موجودہ وزراء ‘‘بھی یہی منتر دہرا تے نظر آتے ہیں ۔مگر ظاہر یہ ہورہا ہےکہ موجودہ حکومت کی پٹاری سے گزشتہ تیرہ ماہ میں سوائے ’’گزشتہ حکومت یا حکمرانوں‘‘ کے اور کچھ نہیں نکلا۔ مجموعی طورپرملکی حالات حکومت کا ساتھ نہیں دے رہے ،کیونکہ اپنے ووٹرز کے سامنے سیاسی مخالفین کے احتجاج کو تو این آر او کا نام دے کر جی کو بہلانے والا خیال اچھا ہے مگر ملک بھر کے دکاندار تاجر بھی حکومتی معاشی پالیسیوں کیخلاف دو دن کاروبار کو تالہ لگا کر بیٹھے رہے ۔ مخالف کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے آتے ہی جہاں سیاسی مخالفین کے گرد احتساب کا گھیرا تنگ کیا وہیں پہلے اسد عمر اور عبدالحفیظ شیخ کی اشکال میں وزرائے خزانہ لگا کرپاکستانی عوام سے ناکردہ گناہوں کا بھرپور بدلہ لیا جارہاہے۔سرکار سے عقیدت کی بناء پر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ سیاسی مخالفین اپنے اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کیلئے سڑکوں پر ہیں ۔ مگر ڈاکٹرز سڑکوں پر ہیں، دوا ساز کمپنیاں ہرتالیں کررہی ہیں، زرعی صورتحال پر کسان پریشان اورماتم کناں ہیں، اساتذہ چند روز قبل بےدردی سے پیٹے گئے۔ کپڑے کی صنعتیں تباہ پڑی ہیں ،محترم وزیراعظم یہ طبقات کون سا این آر او مانگ رہے ہیں جو احتجاج پر ہیں؟ سبزیوں خصوصا ٹماٹر کی قیمت ایک زرعی ملک کی حکومت کی کارکردگی کا منہ چڑارہی ہے۔ مگر وزیراعظم صاحب اور انکی ٹیم کے پاس یقینا اسکا جواب بھی جادوئی منتر ۔۔۔ ’’گزشتہ حکومتیں‘‘ ہی ہوگا۔
مولاناسیاسی طریقے معاملات حل کرنے کے متمنی تھے مگر وزیراعظم اور انکی اہم رفقاء کے بیانات اور رویے نے انہیں مزیدزچ کیا۔ مولانا فضل الرحمان کا غصہ عروج پر ہے۔یہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکارکرچکے ہیں ۔اس صورتحال میں کلیدی کردار حکومتی اتحادی اورپنجاب کے مفاہمتی گروچوہدری برادران کا ہے۔ مگر تاریخ بتلاتی ہے کہ چوہدری صاحبان جن مذاکرات میں پڑے ،انجام خیر نہ ہوا، چاہے اکبر بگٹی ہوں یالال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز۔۔تاہم مجھ سمیت ہر محب وطن پاکستانی کی خواہش ،امید اور دعا ہے کہ تاریخ اس بار خود کو نہ دہرائے ۔
حکمران جماعت کی غیرسنجیدگی ،چند اہم وزراء کا حیران کن حد تک لایعنی بیانیہ اور کارکردگی کے نام پر صرف گزشتہ حکومتوں کے راگ۔۔مجموعی صورتحال پر نظر دوڑائیں تو نہ جانے کیوں لگتا ہے کہ شاید لانے والے بھی اب پچھتانے لگے ہیں،اب یہ حکومت پر ہے کہ۔۔۔یہ جاگے گی یا جائے گی۔۔۔۔!!

0 comments:
Post a Comment