نقصان کس ہوگا


بیمار نواز شریف پر ٹچکلیں تو بہت کی گئیں ۔ مرحوم اہلیہ کی طرح انکی بیماری کا بھی بھرپور ٹھٹہ اڑیا گیا۔مخصوص وزراروز گویا ڈاکٹری ہدایت کے مطابق سابق وزیراعظم کا تذکرہ کرتے ،اور ڈیل اور ڈھیل نہ دینے کے عزم کا اعادہ بھی فرماتے رہے ۔مگر چند روز قبل نوازشریف کی تشویشناک حالت میں جیل سے اسپتال منتقلی اور اسکے بعد کئی گھنٹوں تک بگڑتی صورتحال نے پوری حکومت کو ہلا کررکھ دیا۔ابتدائی رپورٹس پر وزیراعظم عمران خان نہ صرف پریشان ہوئے بلکہ انہیں شاید شک گزرا کہ پنجاب کے ڈاکٹر ن لیگ یا شریفوں سے تعلق کی بناء صحت سے متعلق معاملات کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں، اس لئے کراچی سے ایک ماہرڈاکٹر کو بلوایا گیا اور مزید تشفی کیلئے اپنے اسپتال کے سربراہ کو بھی سابق وزیراعظم کے معائنے کیلئے بھیجا گیا۔
ماہرمعالجین کی شب و روزمحنت سےنوازشریف کی صحت تو قدرے سنبھل گئی مگر اس دوران زندگی اور موت کی جنگ حکومت لڑ تی نظر آئی ۔ اسی لئے حیران کن انداز میں سابق وزیراعظم  اور انکے خاندان کے اسیررہنماؤں کو  ضمانتیں ملیں اور اس سرکار کی مکمل کوشش تھی کہ کسی بھی طرح نوازشریف کو ملک سے باہر بھجوادیا جائے،جو ڈھیل دے رہی تھی نہ ڈیل ۔مگر سوشل میڈیا پر اٹھنے والے طوفان نے حکومت کو ایک بار پھر یوٹرن کی ضرورت  واہمیت سے آشنا کیا ۔وہی حکومت جو جلدازجلدنوازشریف سےچھٹکارا پانے کی متمنی تھی ، اس سوچ میں پڑ گئی کہ  سابق وزیراعظم کو بیرون ملک بھجوانے کاالزام سرپر کون لے؟عدالت نے معاملہ حکومت پر چھوڑا، حکومت نے نیب کو بھیجااور نیب نے پھر حکومت کو۔۔۔ایک بار پھر بال اپنی طرف آتی دیکھ کر کپتان سرکار نے چھکا لگانے کوشش کی اور نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دینے کیلئے شورٹی بانڈ مانگ لئے۔اس معاملے کو سیاسی مشق کا بھرپور میدان بنا لیا گیا ۔دوسری جانب ن لیگ بھی نوازشریف کی صحت کے بجائے سیاست کو فوقیت دے رہی ہےمگرحقیقت یہی ہے کہ  سابق وزیراعظم کوخدا نخواستہ کچھ ہو جاتا ہے اسکا سیاسی نقصان  مسلم لیگ نہیں حکومت کو ہوگا۔نہ صرف پنجاب کو بھٹو مل جائےگا بلکہ تبدیلی  سرکار کی حکومت جانا بھی طے ہوگااور کئی اہم رہنماؤں کی شاید سیاست ہی تمام ہوجائے۔
دوسری طرف سابق صدر آصف زرداری کی صحت بھی تشویشناک ہے ۔سابق صدر جعلی اکاؤنٹس کیس میں تحقیقات کیلئے گزشتہ کئی ماہ سےنیب کی حراست میں ہیں۔یہ اب تک ملزم ہیں ،ان پر کوئی جرم اب تک ثابت نہیں ہوا  تاہم حکومت انکے ساتھ بھی نوازشریف جیسا سلوک کررہی ہے۔ خود اہم وزراء اعتراف کرچکے ہیں کہ زرداری کی حالت نہایت خراب ہے مگر اسکے باوجود بلاول کی بارہادرخواستوں پر بھی سابق صدر کیلئے پرائیویٹ میڈیکل بورڈ نہیں بنایا جارہا ۔
وزیراعظم عمران خان اور انکی جماعت کا بیانیہ کرپشن اور کرپٹ عناصر کیخلاف کارروائی اور قوم کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ہے ۔عام ووٹراس بیانیےکیلئے ہر تکلیف سہنے کو تیار ہے،مہنگائی ،بدانتظامی ہویا دیگرمعاملات، انصافی ہر معاملہ صرف نظر کرنے کو تیار ہیں مگریہ عمران خان کےبیانیے پر کوئی کمپرومائز نہیں کرسکتے۔یہ ناقابل برداش یوٹرن ہوگا۔ یہی اس پورے منظر نامے کا اہم ترین پہلویہ   ہے ۔ مگر دلچسپ صورتحال یہ ہے  کہ موجودہ کابینہ کے بیشرارکان مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے ادوار میں بھی کابینہ میں شامل رہے، یہاں سوال یہ ہے کہ اگر کرپشن کے الزامات کی بنیاد پر نوازشریف اور آصف زرداری  کومرضی سے علاج کرانے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ، مان لیا جائے کہ دونوں کرپٹ  بھی ہیں تو کیا وہ بغیر وزراء کی امداد کے ایسا کرنے پر قادر تھے؟ اگر نہیں توآخروہ کیا پیمانہ ہے جسکی بنیادپر انکے ادوار میں وزارتوں میں رہنے والے زعماء اب بھی قابل اعتبار ہیں؟
میری رائے میں یہ وقت نوازشریف ،زداری یا دیگر اپوزیشن رہنماؤں کیلئے نہیں بلکہ خود وزیراعظم عمران خان  کیلئے مشکل  ہے۔مشکل بیانیے کا انتخاب انہیں بندگلی کی جانب دکھیل رہا ہے ۔ خدا نخواستہ کسی بھی اسیررہنما کو کچھ ہوا تو اسکی ذمہ داری اور سیاسی نقصان انہی کے سرہوگا۔ وزیراعظم صاحب  کو جذباتی بیانیے پر مصلحت کو حاوی کرنا ہوگا اور مخلص دوستوں کے مشوروں پر عمل کرکے اپنے لئے سہل راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ورنہ سیاسی پرندے جو کبھی جنرل مشرف، آصف زرداری یا نوازشریف کےآنگن میں چہچہاتے تھے، کل کسی اور آنگن کی زینت بننے میں  کیونکر تردد کرینگے ۔

0 comments:

Post a Comment