سید قطبؒ، امام خمینیؒ اور امام عبدالوہابؒ کےشاگردوں کا نظریاتی تناؤ۔ حصہ اول
جدید دنیا میں عالم اسلام اپنے مرکز پر قائم نہ رہ سکا اور پچاس سے زائد ریاستوں میں منقسم ہے۔ان میں ذیادہ ترریاستیں قومی ، لسانی،نسلی یا دیگرغیرمذہبی نظریات پر قائم ہیں۔انکے اپنے آئین اور قوانین ہیں جو ریاستی ضروریات کے مطابق ترتیب دیئے جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج ہم امت کو درپیش مسائل پر اجتماعی فیصلے تو درکنار یکساں فکر رکھنے کے بھی روادار نہیں۔
گوکہ چند ریاستیں اسلامی طرز ریاست رکھنے کی دعویدار ہیں تاہم گزشتہ چند دنوں میں مسلم دنیا کی صورتحال انتہائی پریشان کن منظر پیش کررہی ہے۔باہمی تناؤ میں شدید اضافہ صرف حالات و واقعات پر نہیں بلکہ صدیوں پر پھیلے نظریات کی وجہ سے ہے۔اس تحریر میں میری کوشش ہوگی کہ میں ان افکار کاعمومی تعارف اور باہمی تصادم کی وجوہات پیش کرسکوں۔
۱۔
تحریک وہابیت کا آغاز اٹھارہویں صدی عیسوی میں نجد سے ہوا ۔جس کے بانی محمد ابن عبدالوہاب ؒنجدی تھے ۔انکی تحریک نے اس وقت کے مسلم معاشرہ کی اصلاح کے لئے آواز بلند کی اور اتحاد اور اصلاح کے نام پر انتہائی سخت گیر موقف اپنایا ۔وہابی فروع دین میں امام احمد ؒابن حنبل کی پیروی کرتے ہیں۔ ان کی اکثریت جزیرہ نمائے عرب کے مشرقی حصے میں مقیم ہے۔ وہابی قرآن اورسنت میں تأویل کی بجائے آیات اورروایات کے ظاہر پر عمل کرنے کے معتقد ہیں۔نجد کے حکمران محمد ابن سعود نے محمد ابن عبد الوہاب ؒکے نظریات کو قبول کرتے ہوئے، اس کے ساتھ عہد و پیمان باندھا جس کے نتیجے میں انہوں نے سن 1157 ہجری میں نجد اور اس کے گرد و نواح پر قبضہ کرتے ہوئے ان نظریات کو پورے جزیرہ نمائے عرب میں پھیلانا شروع کر دیا۔ ریاض کو فتح کرنے کے بعد اسے دار الخلافہ قرار دیا، جو ابھی بھی سعودی شاہی حکومت کا دار الخلافہ ہے۔ موجودہ دور میں سعودی عرب کا سرکاری مذہب وہابیت ہے، جہاں اس فرقے کے علماء کے فتووں پر حکومتی سربراہی میں عمل درآمد کیا جاتا ہے۔
2۔
1924ء میں امت مسلمہ لسانی بغاوتوں کے باعث تقسیم درتقسیم کے مراحل سے گزررہی تھی ۔اسلام کے سیاسی مرکز کے طور پر دیکھے جانے والی خلافت عثمانیہ کا خاتمہ ہوچکا تھا اور دنیا میں قومیت کی بنیاد پر جدید ریاستوں کی اصطلاحات جنم لے رہیں تھیں۔تاہم قطع خلافت کے بعداسلامی سیاسی و سماجی احیاء کی جدوجہد بھی ان نئی اصلاحات کا مقابلہ کرنے کیلئے قائم ہو چکی تھی ۔ امام حسن ؒالبناءنے 1928ء میں اخوان المسلمون کے نام سے جدید دنیا کی عظیم ترین اسلامی اصلاحاتی تحریک کا آغاز کیاجس کا فلسفہ مصر سے نکل کر کئی ممالک میں پھیل گیا ۔ خلافت کے خاتمے کے بعد حسن البناء مصر میں بڑھتے ہوئے یورپی اثر و رسوخ اور مسلمانوں کی مذہبی وتہذیبی پستی سے انتہائی مضرب تھے ۔اخوان کا بنیادی مقصد اصلاحی تبدیلی ہی ٹہرا ۔ دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی اور مصر اس مضبوط تحریک کامرکز تھا، جنگ کے بعد فلسطین سے برطانیوی انخلاء کے دوران پیدا کی گئی صورتحال اور اسرئیلی ریاست کے قیام کے خلاف مضبوط موقف اپنانے کی وجہ سے برطانیہ نے شاہ فاروق سے مطالبہ کیا کہ اخوان کو کالعدم قرار دیا جائے ۔ شاہ خود بھی اخوان المسلمون کے بڑھتے ہوئے اثر سے خائف تھا لہذا 1948ء میں ہی اسے خلاف قانون قرار دیکر ہزاروں کارکنان کو پابند سلاسل کر دیا گیاتاہم امام حسنؒ البنا ء کو گرفتار کرنے کی بجائے انہیں شہید کر دیا گیا ۔ کسی بھی نظریہ کی کامیابی کا دارومداراسکے ماننے والوں کی ثابت قدمی اور اسکے لئے کی جانے والی کوششوں پر ہوتا ہے ،یہ قربانیاں تحریک میں خون کی مانند ہوا کرتی ہیں جو اسے جامد ہونے سے روکتی ہیں ۔ حسن ؒالبناء کے بعدسیدقطب ؒ صرف اخوان ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے تمام جدید تحاریک کے روحانی استاد قرارپائے۔انکی تعلیمات کے ذریعے پوری دنیا میں اہل ہلال اسلام کے جدید سیاسی افکارسمجھنے لگے۔انکانظریہ عرب و عجم تک پھیلااور زندہ رہا ،ناقدین بھی مانتے ہیں کہ سیدقطب ؒکےعلمی و فکری اجتہاد نے جدید دنیا کی تقریبا تمام اسلامی تحاریک کو نظریاتی ایندھن فراہم کیا۔گو کہ چوراسی سالہ جدوجہد کے بعد محمدمرسی کی شکل میں حسن البناء ؒمصر میں حکمران بنے مگرسال بھر میں ہی اخوان کو اقتدار سے بےدخل کرکے دوبارہ کچل دیا گیا ،مرسی ؒشہیدکردیئے گئے۔ تاہم اس وقت اسلامی دنیا کی تقریبا ہر ریاست میں انکا سیاسی فلسفہ کسی نہ کسی انداز میں موجود ہے۔ترکی کی اے کے اے پارٹی ،صدر رجب طیب اردوان ان کے فکری شاگرد ہیں اور انکی سیاسی سوچ کے آئینہ دار بھی ۔یہ مسلم دنیا کی سب اہم نظریاتی قوت بن چکے ہیں اور پورے عالم اسلام میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
3۔
امام خمینی ؒ جدید دنیا میں تیسرے اسلامی نظریے کے بانی خیال کئے جاتے ہیں۔سید روح اللہ موسوی خمینی المعروف امام خمینی ایران کے اسلامی مذہبی رہنما اوراسلامی جمہوریہ ایران کے بانی تھے ۔1953ء میں شہنشاہ ِ ایران رضا شاہ کے حامی جرنیلوں نے قوم پرست وزیراعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ کر تودہ پارٹی کے ہزاروں ارکان کو تہ تیغ کر دیا تو ایرانی علما نے درپردہ شاہ ایران کے خلاف مہم جاری رکھی اور چند سال بعد آیت اللہ خمینی ایرانی سیاست کے افق پر ایک عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے- عوام میں آپکی بڑھتی ہوئی پذیرائی نے تخت شاہی کو ہلا كر ركھ دىا ۔امام خمینى كو گرفتار كركے جلا وطن كر دىا ،امام ، ترکی اورعراق کے بعدفرانس منتقل ہو گئے۔ جلاوطنی کے اس سارے عرصے میں شاہ ایران کے خلاف تحریک کی رہنمائی کرتے رہے۔ بلآخر1979میں ایران میں انقلاب لانے میں کامیاب ہوئے اور ایرانی شاہی نظام کو ختم کر کے اسلامی نظام کی بنیاد رکھی۔ اسلامی نظام ولایت فقیہ کے نظریہ پر قائم ہوا۔ ایرانی انقلاب کی سب سے پہلی شرط اسلام ہے ۔ اس انقلاب کے رہبر مرجعیت دینی کے منصب پر تهے، اسکی تنظیم و ترتیب ،کے دینی علوم کےہزار سالہ مرکزی ادارہ کے ذریعے ہوئی۔ عوام اور اس انقلاب کے بانیوں کا مقصد اسلام اور قوانین اسلامی کی حاکمیت اور استبداد داخلی اور استبداد عالمی کے چنگل سے رہائی تها۔ آج بھی ایران جدید دنیا کے اسلامی افکار سیاست کےسب سے منفرد نظام پر قائم ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دیگرنظریاتی افکار سے ٹکراؤ کی کفیت گاہے بہ گاہے ہوتی رہتی ہے ۔۔۔۔ جاری ہے

0 comments:
Post a Comment