سید قطبؒ، امام خمینیؒ اور امام عبدالوہابؒ کےشاگردوں کا نظریاتی تناؤ۔ حصہ دوم
۔
سقوط خلافت اور بعد ازاں تیل کی دولت سے مالامال ہونے والا خطہ عرب و فارس ،انقلاب ایران کے بعد مسلسل باہمی تضاد کا شکار رہا ہے۔ معاشی و مادی ترقی کے بعدامام عبدالوہاب ؒ اور امام خمینی ؒ کے پیروکاروں نےرویہ نرم کرنے کے بجائے مزید سخت کردیا۔۔یہ حقیقت سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے اعتراف کے بعد مزید کھل کرسامنے آچکی ہے کہ پاکستان سمیت کئی ترقی پزیر مسلم اکثریتی ممالک میں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے یہ نظریاتی جنگ پھیلائی گئی۔دونوں قوتیں مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل یا تعلیم و ترقی کے بجائے باہمی نفاق کو ہوا دینے کیلئے ہر سطح پر کام کرنے میں مصروف رہیں، ایک عام تاثر ہے کہ سعودی عرب اور حلیفوں کی ایران سے مخاصمت تاریخی طور پر چلی آرہی عرب و فارس ناپسندیدگی کا ہی سلسلہ ہے، تاہم حالیہ برسوں میں عراق ،شام،لبنان و دیگرکئی عرب ممالک میں بسنے والے غیرفارسی رہنما کی ایران یا خمینیؒ کے نظریات سے وابستگی اس تاثرکو رد کرنے کیلئے کافی ہے۔اس وقت بھی جن حوثی باغیوں کیخلاف سعودی تیارکردہ ’’متحدہ اسلامی افواج‘‘ برسرِپیکار ہیں انکی پش پناہی کا الزام بھی ایران پر ہی لگایا جاتا ہے۔جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور شام میں بشاالاسداسکے اہم ترین حلیف تسلیم کئے جاتے ہیں۔ان دونوں قوتوں کے تعلقات ستر کی دہائی سے ہی شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں اور کئی مواقع پر سنگین صورتحال رہی ، اور گزشتہ ماہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد سے ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔مشرق وسطی ٰ میں جہاں یہ دونظریاتی قوتیں اور انکے بیرونی اتحادی باہم دست و گریباں ہیں وہیں سیدقطبؒ کے روحانی فیوض سے مستفید مصر کے اخوان اور ترکی کے اردوان بھی دونوں جانب سے ایک مستقل سیاسی و مذہبی خطرے کے طور پردیکھے جاتے ہیں۔
2010ء میں تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہار جو دراصل سارے عرب حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی ایک لہر تھی، نے ایک نئے قسم کی فکر کو جنم دیا جسے اسلامی کہنا یقینا ذیادتی ہوگی۔داعش نامی تنظیم اس فکر کا مرکزی کردار قراردیا جاسکتا ہے جس نے حکمران طبقے کیخلاف اٹھنے والی تحاریک میں اسلام کے نام پر دہشتگردی ،لاقانونیت اور درندگی کی انتہاکردی۔
اس انقلاب نے شام کو بھی لپیٹ میں لیا۔ شام کے بشارالاسد کو بچانے کے لیے ایران اور حزب اللہ نے پراکسی جنگ چھیڑی۔ بشارالاسد کو بچانے کے لیے اپنے تمام مالی اور عسکری وسائل جھونک دیے۔ جب ایران کے حمایت یافتہ گروپ بھی کام نہ آسکے تو ایران کی فوج اور حزب اللہ براہِ راست جنگ میں کود پڑے اور روس بھی واحد عرب اتحادی کو بچانے کے لیے میدان میں آگیا۔
دوسری طرف سعودی عرب اورترکی نے بشارالاسد کو ہٹانے کی کوششوں کا ساتھ دیا اور باغیوں کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کی ۔یوں خطہ پراکسی وار کا گڑھ بن گیا۔ روس اور ایران کی مداخلت کی وجہ سے بشارالاسد کو ہٹانا مشکل ہوگیا اور توازن بشارالاسد کے حق میں ہوگیا۔ ان حالات میں داعش کے خلاف جنگ کے نام پرسعودی حلیف امریکا بھی 60 ملکوں کے اتحاد کو لے کر جنگ میں کود پڑا۔ دنیا بھر کی طاقتوں کے مفادات اور نظریات کے ٹکراؤ سے شام کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دیا گیا۔امریکا نے داعش کے خاتمے کے لیے کردوں اور چند عرب جنگجو کوملاکر سیرین ڈیموکریٹک فورس قائم کی ،اور خود براہ راست جنگ میں کو دنے کی بجائے ،ایس ڈی ایف کو داعش سے لڑنے کے لیے فضائی سپورٹ کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کی۔ امریکا اور ایس ڈی ایف داعش کو بھگانے میں کامیاب رہے اور ایس ڈی ایف نے شمالی شام پر کنٹرول مضبوط کرلیا۔مگراس صورتحال کے بعد ترکی شام کے ساتھ 570 میل سرحد پر کردوں کے زیرِ انتظام علاقے سے خائف ہوگیا۔ ترکی کے خیال میں شام کے کرد گروپ وائی پی جی اور ترکی کے گروپ پی کے کے میں رابطے ہیں جو ترکی کی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو ترکی کی خارجہ پالیسی مہاجرین کی مدد کے علاوہ بشارالاسد کو براہِ راست فوجی مداخلت کے بغیر نکال باہر کرنے تک محدود رہی لیکن تازہ صورت حال میں ترکی کی پالیسی فوجی پالیسی میں بدل چکی ہے۔ انسانی ہمدردی کے تحت ترکی نے 36 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا۔ اب بھی ترکی کی پالیسی میں شامی مہاجرین کی مدد شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ترکی چاہتا ہے کہ شامی مہاجرین کی کوئی نئی لہر پیدا نہ ہو، مزید ہجرت روکی جائے اور پہلے سے بے گھر شامی شہریوں کے لیے شام کی سرحدوں کے اندر ایک سیف زون بنایا جائے۔
ترکی 2016ء اور 2018ء میں بھی شام کی سرحد پر فوجی کارروائیاں کرچکا ہے۔چند ہفتے قبل کی جانے والی کارروائی کا مقصد بھی ریاستی سلامتی کو قرار دیا گیا ۔ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ مہاجرین کی مدد اور نئی ہجرت کو روکنے کے چکر میں کرد گروپ اور داعش اس کی سرحد کے پاس پہنچ گئے ہیں، لہٰذا اس مسئلے کا حل فوجی طاقت کے سوا کچھ نہیں رہا۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق ترکی ،روس کے ساتھ کرد فورسز کو اپنی اور شامی سرحد سے دور رکھنے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ ۔ دونوں ممالک نے اس معاہدے کو تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے۔
یہاں واضح ہے کہ سعودی عرب ، ایران اورترکی ،تینوں کا مشترکہ مقصد یہی ہے کہ شام کو ایک دوسرے کی سیٹلائٹ ریاست بننے سے روکاجاسکے،جس کیلئے تینوں مسلم سیاسی نظریات کے درمیان پراکسی وار جاری ہے۔ آئینی طور پر ترکی ایک سیکولر ریاست ہے،مگر صدراردوان اور انکی جماعت امام حسن البناء ؒاور سید قطب ؒ کی تعلیمات کے مداح ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صدر اردوان سعودی و ایرانی فرقہ وارانہ علاقائی پالیسیوں کا سخت مخالف ہیں۔تازہ ترین حالات کے مطابق تینوں مسلم سیاسی تحاریک مخصوص پیرائے میں مسلمانوں کی ہی دشمن ثابت ہورہی ہیں کیونکہ تنازع کا کوئی بھی قابل قبول حل انکے پاس نہیں ہے۔انہیں سوچناہوگا کہ اغیار کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بننے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر کسی ایک نتیجے پر پہنچے بغیرصرف امت کے نقصان کا باعث بنتے رہیں گے ، اور ہمارے ایلان یونہی لاش کی شکل میں ساحلوں پر ملتے رہیں گے۔
سقوط خلافت اور بعد ازاں تیل کی دولت سے مالامال ہونے والا خطہ عرب و فارس ،انقلاب ایران کے بعد مسلسل باہمی تضاد کا شکار رہا ہے۔ معاشی و مادی ترقی کے بعدامام عبدالوہاب ؒ اور امام خمینی ؒ کے پیروکاروں نےرویہ نرم کرنے کے بجائے مزید سخت کردیا۔۔یہ حقیقت سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے اعتراف کے بعد مزید کھل کرسامنے آچکی ہے کہ پاکستان سمیت کئی ترقی پزیر مسلم اکثریتی ممالک میں باقاعدہ فنڈنگ کے ذریعے یہ نظریاتی جنگ پھیلائی گئی۔دونوں قوتیں مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل یا تعلیم و ترقی کے بجائے باہمی نفاق کو ہوا دینے کیلئے ہر سطح پر کام کرنے میں مصروف رہیں، ایک عام تاثر ہے کہ سعودی عرب اور حلیفوں کی ایران سے مخاصمت تاریخی طور پر چلی آرہی عرب و فارس ناپسندیدگی کا ہی سلسلہ ہے، تاہم حالیہ برسوں میں عراق ،شام،لبنان و دیگرکئی عرب ممالک میں بسنے والے غیرفارسی رہنما کی ایران یا خمینیؒ کے نظریات سے وابستگی اس تاثرکو رد کرنے کیلئے کافی ہے۔اس وقت بھی جن حوثی باغیوں کیخلاف سعودی تیارکردہ ’’متحدہ اسلامی افواج‘‘ برسرِپیکار ہیں انکی پش پناہی کا الزام بھی ایران پر ہی لگایا جاتا ہے۔جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور شام میں بشاالاسداسکے اہم ترین حلیف تسلیم کئے جاتے ہیں۔ان دونوں قوتوں کے تعلقات ستر کی دہائی سے ہی شدید تناؤ کا شکار رہے ہیں اور کئی مواقع پر سنگین صورتحال رہی ، اور گزشتہ ماہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد سے ایک بار پھر دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں۔مشرق وسطی ٰ میں جہاں یہ دونظریاتی قوتیں اور انکے بیرونی اتحادی باہم دست و گریباں ہیں وہیں سیدقطبؒ کے روحانی فیوض سے مستفید مصر کے اخوان اور ترکی کے اردوان بھی دونوں جانب سے ایک مستقل سیاسی و مذہبی خطرے کے طور پردیکھے جاتے ہیں۔
2010ء میں تیونس سے شروع ہونے والی عرب بہار جو دراصل سارے عرب حکمرانوں کے خلاف بغاوت کی ایک لہر تھی، نے ایک نئے قسم کی فکر کو جنم دیا جسے اسلامی کہنا یقینا ذیادتی ہوگی۔داعش نامی تنظیم اس فکر کا مرکزی کردار قراردیا جاسکتا ہے جس نے حکمران طبقے کیخلاف اٹھنے والی تحاریک میں اسلام کے نام پر دہشتگردی ،لاقانونیت اور درندگی کی انتہاکردی۔
اس انقلاب نے شام کو بھی لپیٹ میں لیا۔ شام کے بشارالاسد کو بچانے کے لیے ایران اور حزب اللہ نے پراکسی جنگ چھیڑی۔ بشارالاسد کو بچانے کے لیے اپنے تمام مالی اور عسکری وسائل جھونک دیے۔ جب ایران کے حمایت یافتہ گروپ بھی کام نہ آسکے تو ایران کی فوج اور حزب اللہ براہِ راست جنگ میں کود پڑے اور روس بھی واحد عرب اتحادی کو بچانے کے لیے میدان میں آگیا۔
دوسری طرف سعودی عرب اورترکی نے بشارالاسد کو ہٹانے کی کوششوں کا ساتھ دیا اور باغیوں کو اسلحہ اور مالی مدد فراہم کی ۔یوں خطہ پراکسی وار کا گڑھ بن گیا۔ روس اور ایران کی مداخلت کی وجہ سے بشارالاسد کو ہٹانا مشکل ہوگیا اور توازن بشارالاسد کے حق میں ہوگیا۔ ان حالات میں داعش کے خلاف جنگ کے نام پرسعودی حلیف امریکا بھی 60 ملکوں کے اتحاد کو لے کر جنگ میں کود پڑا۔ دنیا بھر کی طاقتوں کے مفادات اور نظریات کے ٹکراؤ سے شام کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل دیا گیا۔امریکا نے داعش کے خاتمے کے لیے کردوں اور چند عرب جنگجو کوملاکر سیرین ڈیموکریٹک فورس قائم کی ،اور خود براہ راست جنگ میں کو دنے کی بجائے ،ایس ڈی ایف کو داعش سے لڑنے کے لیے فضائی سپورٹ کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کی۔ امریکا اور ایس ڈی ایف داعش کو بھگانے میں کامیاب رہے اور ایس ڈی ایف نے شمالی شام پر کنٹرول مضبوط کرلیا۔مگراس صورتحال کے بعد ترکی شام کے ساتھ 570 میل سرحد پر کردوں کے زیرِ انتظام علاقے سے خائف ہوگیا۔ ترکی کے خیال میں شام کے کرد گروپ وائی پی جی اور ترکی کے گروپ پی کے کے میں رابطے ہیں جو ترکی کی سالمیت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
شام میں خانہ جنگی شروع ہوئی تو ترکی کی خارجہ پالیسی مہاجرین کی مدد کے علاوہ بشارالاسد کو براہِ راست فوجی مداخلت کے بغیر نکال باہر کرنے تک محدود رہی لیکن تازہ صورت حال میں ترکی کی پالیسی فوجی پالیسی میں بدل چکی ہے۔ انسانی ہمدردی کے تحت ترکی نے 36 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی اور ان کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھا۔ اب بھی ترکی کی پالیسی میں شامی مہاجرین کی مدد شامل ہے لیکن اس کے ساتھ ترکی چاہتا ہے کہ شامی مہاجرین کی کوئی نئی لہر پیدا نہ ہو، مزید ہجرت روکی جائے اور پہلے سے بے گھر شامی شہریوں کے لیے شام کی سرحدوں کے اندر ایک سیف زون بنایا جائے۔
ترکی 2016ء اور 2018ء میں بھی شام کی سرحد پر فوجی کارروائیاں کرچکا ہے۔چند ہفتے قبل کی جانے والی کارروائی کا مقصد بھی ریاستی سلامتی کو قرار دیا گیا ۔ترکی کی پالیسی میں تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ وہ خیال کرتا ہے کہ مہاجرین کی مدد اور نئی ہجرت کو روکنے کے چکر میں کرد گروپ اور داعش اس کی سرحد کے پاس پہنچ گئے ہیں، لہٰذا اس مسئلے کا حل فوجی طاقت کے سوا کچھ نہیں رہا۔ تازہ ترین پیش رفت کے مطابق ترکی ،روس کے ساتھ کرد فورسز کو اپنی اور شامی سرحد سے دور رکھنے کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے ۔ ۔ دونوں ممالک نے اس معاہدے کو تاریخی معاہدہ قرار دیا ہے۔
یہاں واضح ہے کہ سعودی عرب ، ایران اورترکی ،تینوں کا مشترکہ مقصد یہی ہے کہ شام کو ایک دوسرے کی سیٹلائٹ ریاست بننے سے روکاجاسکے،جس کیلئے تینوں مسلم سیاسی نظریات کے درمیان پراکسی وار جاری ہے۔ آئینی طور پر ترکی ایک سیکولر ریاست ہے،مگر صدراردوان اور انکی جماعت امام حسن البناء ؒاور سید قطب ؒ کی تعلیمات کے مداح ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صدر اردوان سعودی و ایرانی فرقہ وارانہ علاقائی پالیسیوں کا سخت مخالف ہیں۔تازہ ترین حالات کے مطابق تینوں مسلم سیاسی تحاریک مخصوص پیرائے میں مسلمانوں کی ہی دشمن ثابت ہورہی ہیں کیونکہ تنازع کا کوئی بھی قابل قبول حل انکے پاس نہیں ہے۔انہیں سوچناہوگا کہ اغیار کے ہاتھوں کٹھ پتلیاں بننے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر کسی ایک نتیجے پر پہنچے بغیرصرف امت کے نقصان کا باعث بنتے رہیں گے ، اور ہمارے ایلان یونہی لاش کی شکل میں ساحلوں پر ملتے رہیں گے۔

0 comments:
Post a Comment