ہم کس کے پیروکار ہیں ؟

 

ہم کس کے پیروکار ہیں ؟

اٹھتے ہیں حجاب آخر

از۔۔۔۔۔احسن اعوان

 

ناانصافی کیخلاف احتجاج ایک ایسا انسانی حق ہی جو ہر طرز حکومت میں قابل استعمال رہتا ہے تاہم اسکے نتائج کا ثمرات یا مضمرات میں آنا یقینا مظاہرین کی نیت اور استقامت پر منصر ہوا کرتا ہے۔دنیا بھر میں عقل مند اور باشعور اقوام   معاملات طے کرنے کیلئے پر دلیل اور موثر انداز احتجاج اپنایا کرتے ہیں جس سے کسی بھی طور انکی اجتماعی تصویر متاثر نہیں ہوتی اور معاملات کا پرامن حل تلاش کرنے میں بھی عموما کامیاب ہو جاتے ہیں اور یوں ریاستی عملداری میں قانون شکنی کئے بغیر کاروبار زندگی رواں رہتا ہے۔آذادی سے قبل قانون شکنوں کو ہیرو سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ ایک شفاف نظریہ کے تحت قابضوں کے مفادات کو گزنداور انگریز سرکار کو ہر ممکن نقصان پہنچاتے تھے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم کیاگیا۔یہ جدید دنیا کی پہلی مذہبی ریاست ہے، جس کے قیام کا مقصد ہی مسلمانانِ برصغیر کو اسلام کے فلاحی  معاشرتی اصولوں پر مبنی معاشرے کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔1947ء میں ملک بنا، اور مذہب کے نام پر بننے والے ملک میں سب سے پہلے مذہب ہی کو اپنے اپنے انداز میں پابندِ سلاسل کیا گیا۔ حصول آذادی کے بعد بھی ہم نے اپنے مزاج کو بدلنا مناسب نہ سمجھا اور جہاں کسی لسانی یا مذہبی گروہ یا طبقہ فکر کو کسی قانون نے اپنی گرفت میں لیا ”ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے“ کی للکاراورپھر ، بلوے، مار کٹائی، قتل عام اور لاقانونیت، مذہبی معالات میں فتوے اور کافر کافر کی صدائیں جبکہ انتظامی معاملات میں متفرق نعروں سے ”مظاہرین“نے مطلوبہ نتائج کا حصول ممکن بنایا۔9/11کے بعد سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پرتشدد احتجاج گویا ایک فیشن بن کر ابھرا ہے۔افغانستان پر حکومتی یو ٹرن کے خلاف ”تیری جان میری جان طالبان طالبان“ اور نتیجہ بھر پور عوامی لوٹ مار،یورپی اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر”غلامی رسولؐ میں موت بھی قبول ہے“ اور نتیجہ ملک بھر میں مظاہرین کی جانب سے نجی املاک کی لوٹ مار اور حکومتی املاک کی توڑ پھوڑ، اسی طرح بینظیر بھٹو کی شہادت اور کئی ایسے ہی واقعات ہماری ذہنی پسماندگی کو ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ چند سالوں کی تاریخ ہمیں یہ نظیر دیتی ہے کہ جب بھی ریاست کی گرفت ڈھیلی پڑی، عوام نے دل کھول کر اپنی ہی ریاست کو نقصان پہنچایا،مگر بدھ کی سیاہ دوپہرمیں جو مناظر پاکستان کے  دل لاہور سے پوری دنیا نے دیکھے،شاید انسانی تاریخ میں اسکی مثال نہیں مل سکتی ۔ انسانی جانوں کے رکھوالے اور قانون کے رکھوالوں کے تصادم کے یہ مناظر کئی گھنٹوں تک دنیا بھر کو ہماری قومی بے حسی کادعوت نظارہ دیتے رہے ۔ قانون کے محافظوں کا مشتعل گروہ اسپتال پر حملہ آور ہوا،عمار ت میں موجود تمام شیشے توڑ ڈالے،گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ،پولیس وین تک جلاڈالی مگر انہیں اطمینان نہیں ہوا تو بے یارومدگارمریضوں کو بھی نہ بخشا۔ گزشتہ ماہ پنجاب  انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں چند ڈاکٹرز اور وکلا کے مابین شروع ہونے والی جنگ آج چھ معصوم زندگیاں نگل گئی۔صوبائی وزیرتک کو زدوکوب کیا گیا۔یہ مناظردیکھ کر مجھے نوے کی دہائی میں  عراق کیخلاف امریکا کی جنگ کا مرکزی کردار ،نیرا الصباح  یاد آگئی۔عراق پرپہلے  امریکی حملے سے قبل یعنی اکتوبر1990 میں اس کویتی لڑکی کو لاکھوں ڈالرزخرچ کرکے صرف یہ جھوٹ بلوانے کیلئے تیار کیا گیاکہ صدام کی فوج نے کویت میں ایک ’’اسپتال ‘‘ پر حملہ کیا۔اس جھوٹ نے امریکی عوام کو اتنا مشعل کردیا کہ راتوں رات صدام کیخلاف  نفرت اور عراق پر حملے کی راہ ہموار ہوگئی  کیونکہ ’’مہذب انسانوں ‘‘ کے مطابق انسانیت کی اس سے بڑھ کر تذلیل نہیں ہوسکتی ۔

ہمیں بطور ایک مسلمان یا پاکستانی نہیں بطور ایک انسان سوچنا ہوگا کہ  اگر ہم قوم ہیں  تو کیسی قوم ہیں؟ہماری علمی  پسماندگی کا یہ عالم کہ پی  ایچ ڈی اسکالزسے لیکر اساتذہ تک سڑکوں پر مارے ،گھسیٹے  جاتے ہیں۔ اخلاقی پسماندگی  کا یہ عالم ہیں کہ سیاسی یا نظریاتی حریف  کو ملک دشمن اور غدارکہہ دینا کوئی مسئلہ ہی نہیں، کسی پر بھی جائزنا جائزالزام دھردینا اپنا حق سمجھا جاتا ہے اورذہنی پسماندگی  کا یہ عالم کہ اپنے سوا ہر گروہ ہمیں کافر نظرآتا ہے۔اوراخلاقی پسماندگی کا  یہ عالم کہ معاشرے کے دو انتہائی اہم اورپڑھے لکھے طبقے باہم دست وگریباں ہیں اور اب بھی اپنے اپنے گروہ  کے تحفظ میں مصروف ہیں۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق ملک بھر کی کئی بار کونسلز ڈاکٹرز کیخلاف مکمل ہرتال کا اعلان کرچکی ہیں  جبکہ ڈاکٹرزتنظیمیں وکلا کےخلاف  احتجاج کے نام پر اپنے فرائض سرانجام دینے سے انکاری ہیں۔اس معاملے کا آغازکیسے ہوا،کون حق بجانب تھا اور کون قصور وار، یہ تمام ضمنی اور غیرضروری سوالات ہیں،اصل سوالات یہ ہیں کہ کیا ہم ایک قوم کہلانے کے لائق بھی ہیں؟ محمدؐ عربی کی غلامی کے دعوے تو ہم بھرپور کرتے ہیں  مگر رسول کے اسوہ  حسنہ سے واقف بھی ہیں؟ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم  کون ہیں ، ہم کس کو ماننے والے ہیں اور ہم کس کے پیروکار ہیں۔۔۔

سیاستدان ہمیشہ غدار؟

 

سیاستدان ہمیشہ غدار؟

اٹھتے ہیں حجاب آخر ۔۔۔ از ۔۔۔ احسن اعوان

 

مملکت خداداد میں سیاستدان ہمیشہ غدار ہی رہے ۔۔۔ نوازشریف کوئی پہلی شخصیت نہیں جنہیں ایسے الزامات  کا سامنا ہے۔۔۔

سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنا اور سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینا پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ قیام پاکستان کے ساتھ ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ سیاسی مخالفین کی پکڑ ھکڑ اور سیاسی سرگرمیوں کی حو صلہ شکنی کرنا وزیر اعظم لیاقت علی خان کی قیادت میں قائم حکومت کی اولین ترجیح تھی ۔

یہ حقیقت عیاں ہے کہ تحریک ِپاکستان  کا آغاز بھی بنگال سے ہوا اور مملکت خداداد کی تعمیر میں سب سے اہم کردار بھی بنگال، یوپی، اور بہار کے مسلمانوں کا تھا مگر یہ بھی ایک شرمناک حقیقت ہےکہ اسلامی مملکت کے قیام کیلئے سب سے ذیادہ متحرک اور سرگرم رہنماؤں کو ہی سب سے پہلے غداری کے سرٹیفکٹس تھمائے گئے۔سب سے پہلے تو حسین شہید سہروردی کو نہ صرف غدار بلکہ کتا تک کہا گیا تھا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ یہی غدار پاکستان کا وزیر اعظم بنا ۔ مسلم لیگ کے علاوہ کسی دوسری سیاسی جماعت کا قیام ملک دشمنی اور اسلام دشمنی کے مترادف قرار دے دیا گیا تھا ۔ کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری سجاد ظہیر ابھی پاکستان بھی نہیں پہنچے تھے کہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے تھے۔ 1954میں ’ملک دشمنی ‘کی آڑ میں کمیونسٹ پارٹی پر پابند ی عائد کر دی گئی ۔

1951میں راولپنڈی سازش کیس میں ملوث ہونے کے الزامات لگا کر کئی رہنماؤں کو  گرفتار کر لیا گیا ۔ گرفتار ہونے والوں میں فیض ا حمد فیض بھی شامل تھے ۔ 1954میں مشرقی بنگال میں یونائیٹڈ فرنٹ کی منتخب صوبائی حکومت کو بر طرف کر کے وزیر اعلیٰ اے۔کے فضل الحق کو نہ صرف گرفتار کر لیاگیا بلکہ اسے یک قلم ’غٖدار ‘ بھی قرار دیا گیا تھا ۔

جنرل ایوب خان  کے اقتدار میں آتے آتے غداری کی فتویٰ ساز فیکٹریاں بہت تیزی سے ملکی ضروریات کے مطابق کام کرتی رہیں تاہم جرنیلی آمریت میں انکا فن اس قدر بام عروج پر پہنچا کہ۔۔بانیِ پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح تک ایوب خان کی صدارتی حریف بننے کے سبب انڈین ایجنٹ قرار پائیں۔۔ایوب نے جماعت اسلامی پر پابند عائد کی اور حضرت مولانا مودودی کو سزاے موت دلائی جو بعد ازاں سپریم کورٹ نے ختم کی ۔ شیخ مجیب الرحمان تو بہت ہی عجیب غدار تھا۔ پہلے اسے انڈین ایجنٹ ثابت کیا گیا، پھر اس انڈین ایجنٹ کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی گئی۔جب اس نے فیصلہ کن اکثریت حاصل کرلی تو جنرل یحییٰ خان نے 1970کے الیکشن کے بعد عوامی لیگ کو کالعدم قرار دے کر پاکستان توڑنے کا باقاعدہ بدوبست کیا ۔شیخ مجیب آخر تک چلاتا رہا کہ وہ پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے مگر اسے بنگلہ دیش کا بانی بنا کر ہی دم لیا گیا۔یہی نہیں شرابی صدر نے نیشنل عوامی پارٹی پر بھی پابندی عائد کی۔فوجی ایکشن کے نتیجے میں روپوش ہوجانے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں کوخالی قرار دے کر ان پر میجر جنرل راو فرمان علی خان نے ضمنی انتخابات بھی کر وادیئے تھے۔ ان صوبائی ’ا انتخابات‘ میں بھٹو کی پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا ۔ بھٹو نے بر سر اقتدار آکر نیپ پر پابندی ہٹالی لیکن 1974 میں اسلام آباد میں عراق کے سفارت خانے سے اسلحہ بر آمد کر کے نیپ پر ایک بار پھر پابندی عائد کر دی اور بلو چستا ن میں قائم مینگل حکو مت کو ڈسمس کر دیا تھا اور ساتھ ہی وہاں فوجی ایکشن شروع ہوگیا تھا ۔

جی ایم سید کئی بار محبِ وطن اور اس سے کہیں زیادہ مرتبہ غدار قرار دیے گئے۔ اور یہی ملک کا جرنیلی صدر اس کی خدمات کے عوض گلدستہ بھی پیش کرے۔خان عبدالغفار خان پختونوں کی نظر میں عظیم قوم پرست اور اسٹیبلشمٹنٹ کی ڈائریکٹری میں غدار رہے۔ جب انتقال ہوا تو نظریہ پاکستان کے علم بردار روزنامہ نوائے وقت نے اس غدار کی خدمات پر خراجِ تحسین بھی پیش کیا اور پشاور ائیرپورٹ کا نام باچا خان ائیرپورٹ رکھا گیا۔جب بھٹو وزیرِاعظم بن گئے تو پھر ولی خان اور بلوچ قیادت غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار پائے۔

جب جنرل ضیا الحق نے تختہ الٹا تو بھٹو قاتل اور ولی خان و بلوچ قیادت محبِ وطن شمار ہونے لگے اور پندرہ برس بعد بلوچ پھر غدار اور انڈین ایجنٹ ہو گئے۔ اور اب باری ہے نواز شریف کی جنھوں نے اپنی پہلی وزارتِ عظمی کے دوران بے نظیر بھٹو کو سکھوں کی علیحدگی پسند تحریک کا دشمن اور قومی ایٹمی پروگرام کے لیے سکیورٹی رسک قرار دیا۔وہی نواز شریف دوسری وزارتِ عظمیٰ کے دوران لاہور میں واجپائی کا استقبال کرنے کے سبب مشوک قرار پائے ۔پھر کارگل کی شکست پر پردے بھی اسی بھارت نواز وزیراعظم نے ڈالےاور اپنی فوج کا مورال بلند رکھنے کیلئے چار کے ٹولے کو معاف بھی کردیا  مگر ٹولہ ان سے خائف ہی رہا اور یہ خوف بلآخر نوازشریف کو کال کوٹھری تک لے پہنچا ۔

مشرف کے اقتدار میں کسی کی وضہ کردہ تعریف کے تحت کل کے مجاہدین دہشتگرد بن گئے ۔۔ پاکستان کے کیلئے ووٹ ڈالے والے سابق گورنر و زیراعلی ٰ بلوچستان اکبربگٹی غدار قرارپائے اور شہید کردیئے گئے۔کئی دیگر بلوچ رہنما بھی سرٹیفکٹس کی فیکٹری سے مستفید ہوئے ۔

آصف زرداری میمو گیٹ پر غدار قرار دیئے ہی جانے والے تھے کہ اس وقت کے آرمی چیف کا بھلا ہوجنہوں نے امریکا میں متعین سفیر حسین حقانی کی قربانی قبول کرتے ہوئے زرداری کو بخش دیا ۔مگر میاں نوازشریف بڑے سادہ انسان ہیں ۔اپنی تیسری وزارتِ عظمی کے دوران تاریخ میں پہلی بار کسی فوجی آمر پر ہاتھ ڈال کر عظیم جسارت کربیٹھے ۔اور پھر ڈان لیکس ، اور مودی کو دعوت دیکر رہی سہی کسر بھی نکا دی ۔۔۔

اور تو اور جب پلان کے عین مطابق انہیں فارغ کردیا گیا تو اب وہ سیاست میں فوج کی مسلسل مبینہ مداخلت کا سوال اٹھا کر سیدھے سیدھے پاکستان دشمن اور غدار ہو چکے ہیں ۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ۔۔نوازشریف کے طفیل آج پاکستان کے تین سابق جنرلز اور آزاد کشمیر کے منتخب وزیراعظم پر بھی غدر کا مقدمہ  دائر ہوچکا ہے۔تاہم اس سے نہ تو اداروں کی حرمت پر کوئی حرف آئے گا نہ ریاست کے کشمیر بیانئے پر کوئی حرف آئے گا نہ ہی مودی اور بھارتی میڈیا خوش ہوگا۔۔ دنیا کچھ بھی بولتی ہے تو بولتی رہے ۔نیم سیاسی وزراءشد و  مد سے مرشد کی جانب سے آئے احکامات کے مطابق نوازشریف کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے میں مصروف ہے تاہم یاد رہے کہ آج کے عظیم محبِ وطن عمران خان بھی کل کلاں کسی بھی سبب سرکاری غدار قرار پائیں ۔۔۔ تب کیا ہوگا؟؟؟ موجودہ محب وطن کب غدار قرار پا جائیں ۔۔۔ ایمپائر جانے یا انکا خدا جانے ۔

ملک بڑا یا مَلک؟

 

ملک بڑا یا مَلک؟

اٹھتے ہیں حجاب آخر ۔۔۔ از ۔۔۔ احسن اعوان

 

قوموں کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ شخصیت پسندی  یا شخصیت پرستی ہوتی ، اور یقینا ہم پاکستانی بہ حثیت قوم اس عارضہ میں بری طرح لاحق ہیں۔شخصیت مذہبی ہو یا سیاتی ، سماجی ہو یا عسکری ۔۔۔ہم ہر کسی کے سحرمیں ایسے گرفتار ہوتے ہیں کہ انہیں ہر قسم کی غلطی و کوتاہی سے ماورا تصور کرکے،آنکھوں دیکھا بھی ردکردیاکرتے ہیں۔اب وہ قائداعظم ؒہوں،مولانا موددی  ؒ، ایوب خان ہوں یا پرویزمشرف ،بھٹو ہوں یا نوازشریف یا پھر عمران خان ۔ہر کسی کا حلقہ ِشائقین انہیں تمام تر معاملات میں کامل تصور کرتا ہے اور کسی بھی غلطی کو چاہے جتنا بھی قریب سے دیکھ لے، انکے دفاع میں کوئی نہ کوئی عذر تراش لینا قطعا مشکل  کام نہیں۔ تاہم مملکت ِ خداداد میں ایک ایسی کرشماتی شخصیت بھی جلوہ افروز ہے جوبلاشرکت غیر تمام سیاسی،سماجی،مذہبی و عسکری گرہوں کیلئے ’’محرم ‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔حکومتیں آتی جاتی رہیں،اقتدار کے تمام کھلاڑی ایک دوسرے کو چور،کرپٹ اور غدارقراردیتے رہے مگرگزشتہ کئی دہائیوں سے ملک ریا ض حسین سب کی پہلی پسندبنے رہے ۔اورانکاخاموش اقتدار جاری آج تک جاری ہے۔
گزشتہ دنوں برطانوی کرائم ایجنسی این سی اےنےاعلامیہ جاری کیا جس میں پاکستان کے بزنس ٹائیکون ملک ریاض حسین سے عدالت کے باہر سیٹلمنٹ کے تحت 190 ملین پائونڈ سٹرلنگ کی وصولی کا ذکر تھا۔اس پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ نمبر ایک ہائیڈ پارک کی جائیداد اور آٹھ بنک اکائونٹس منجمد کر کے یہ رقم وصول کی گئی۔ تفصیلات سامنے آئیں تو پتہ چلا کہ  ملک صاحب نے ون ہائیڈ پارک کی یہ جائیداد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز سے خریدی اور آٹھ بنک اکائونٹس کی مشکوک ٹرانزیکشن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ملک ریاض حسین نے ازخود وضاحت جاری کر کے این سی اے کے پریس ریلیز کی تائید کی ۔انہوں نے پشاور میں بحریہ ٹاؤن دفتر کے افتتاح کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ میں نے سپریم کورٹ کو کراچی بحریہ ٹاؤن مقدمے میں 19 کروڑ پاؤنڈ کے مساوی رقم دینے کے لیے برطانیہ میں قانونی طور پر حاصل کی گئی ،ظاہر شدہ جائیداد کو فروخت کیا۔ ملک ریاض نے رواں برس مارچ میں پاکستان کی سپریم کورٹ کو بھی 460 ارب روپے کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی تھی جس کے بدلے عدالتِ عظمیٰ نے ان کے خلاف کراچی کے بحریہ ٹاؤن سے متعلق تمام مقدمات ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ایجنسی این سی اےکا اعلامیہ اور اس پر ملک ریاض کا ردعمل الگ بحث ہے مگر اس پاکستانی اداروں کے تاثرات انتہائی قابل غور ہیں ۔نمبر ایک پاکستان کا تمام ’‘آزادمیڈیا‘‘،تمام چینلز اور اخبارات نے اس خبر کو نشر اور شائع کرتے ہوئے ملک ریاض کا نام گول کر دیا۔جیسا عام دیہاتی خواتین خاوند اور منگیتر کا نام لیتے ہوئے شرماتی اور "اُن" کا استعارہ استعمال کرتی ہیں۔ہمارے میڈیا نے بھی ملک صاحب کے نام کے بجائے ’’ایک پاکستانی شخصیت‘‘  کےذکرکے ساتھ خبریں چلائیں۔بیشک میڈیا کو بھی تجارتی مفادات مقدم ہوتے ہیں ،ہر ادارے میں بعض مقامات اور اشخاص شجر ممنوعہ ہوتے ہیں مگر سارے ہی حریت پسند چوکڑی بھول جائیں؟  وہ جو ایک دوسرے پر سیاسی ٹاؤئٹ ،بدعنوانی یہاں تک کہ غداری  کے فتوے بھی صادر کرتے کوئی عار محسوس نہیں کرتے وہ سب ایک شخصیت کیلئے اس قدر حساس کیسے ہوگئے؟ یہ کیسی پابندی ہے  جسکے لئے نہ وفاق کا کوئی دباؤ ہے نہ نادیدہ قوتوں کا۔گوکہ کچھ صحافی اپنی ذاتی حثیت میں ملک ریاض پر تنقید تو کرتے پائے گئے مگر آزادی ِ صحافت کےیہ  علمبردار  اپنے میڈیا ہاؤسز کو آزاد کرانے پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟ملک کے موجودہ وزیراعظم سے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہےکہ وہ  کرپشن کیخلاف جہاد میں مصروف ہیں، انکی ہرتقریر کا آغازو اختتام کرپشن،بدعنوانی اورغیرقانونی ذرائع سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی پر ہی ہوتا ہے۔ برطانیہ سے اس رقم کی واپسی بھی مبینہ طور پر وزیراعظم عمران خان کی ٹیم ہی کی کوششوں کا نتیجہ قراردی جارہی ہے۔مگرسب سے ذیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نہ صرف وزیراعظم خود اس معاملے پر خاموش ہیں بلکہ اپنی کابینہ کو بھی سختی سے زبان بندی کی ہدایت کررکھی ہے ۔گزشتہ پندرہ ماہ سے سیاسی مخالفین پر درجنوں نہیں سیکڑوں الزامات لگائے،اب تک کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا مگر اسکےباجودباربار دہرائے   جارہے ہیں ،مگر جوصاحب نہ صرف رنگے ہاتھوں پکڑےگئےاور رقم بھی وطن واپس آگئی تو یہ خاموشی کیوں؟ کیا کرپشن اور غیرقانونی پیسےکیخلاف ساری محنت  محض اپوزیشن کیخلاف سیاسی اسکورنگ ہے یا ملک ریاض صاحب کیخلاف لب کشائی سے خوف محسوس ہوتا ہے۔وزیراعظم صاحب کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے ۔اورمجھے اور ہر پاکستانی شہری کو سچ کے پردے میں لپٹے اس جھوٹ سے سوفیصد اختلاف ہے۔
پردہ داری کے باجودیہ حقیقت عیاں ہے کہ یہاں صدر ووزرائے اعظو ں کو جیلوں میں ڈالاجاسکتاہے۔ چیف جسٹس کو سڑکوں پر گھسیٹا جاسکتا ہے،آرمی چیف کو گرفتار کرکے قیدتنہائی میں ڈالا جاسکتا۔دہائیوں تک  دن رات ملکی دفاع میں جٹے رہنے والاایٹمی سائنسدان متنازع قرار دیکردیوار سے لگایاجاسکتا ہے ۔مگر۔ہماری اسٹبلشمنٹ کیلئے شاید۔َملک کاقد ُملک سےبھی بڑا ہے۔

بھارت کا نظریاتی ’’باپ‘‘ چانکیہ اور ارتھ شاسترا

 

چانکیہ اور ارتھ شاسترا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.

اگر دشمن کمزور ہو تو اسےڈرا کرزیرکرلو۔۔۔اگر تم سے ذیادہ مضبوط ہے تو اسے دوست بنالواور جب وہ تم سے غافل ہوتو اسکی پیٹھ پر حملہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مشہور مکروآنہ پالیسی کا بانی کون تھا؟؟

اردو کا مشہور مقولہ ۔۔۔ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ۔۔ کس شخصیت کی مکرو فریب سے بھرپور تعلیمات کی بناء پر وجود میں آیا؟؟؟

اس مشہور و معروف یا بدنام زمانہ طسماتی شخصیت کا نام ۔۔ کوٹیلہ چانکیہ تھا۔۔۔ اس کے بارے میں مزید

ہم آپکو بتائیں گے ۔۔۔۔ مگر پہلے ذکر ۔۔ اسکی مدد سے قائم ہونے والی ہندوستان کی تاریخ کی سب سے پہلی بادشاہت اور پہلے مرکزی حکمران کا ۔۔۔

قبل از مسیح کی معلوم تاریخ بتاتی ہے کہ چندر گپت موریا ایک بے سروسامان اور گم نام شخص تھا جس نے ہندوستان میں موریا سلطنت کی بنیادی رکھی۔ یہ پہلا حکم راں ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کیا اور سلطنت قائم کرلی۔ اس نے 298 سے 322 قبلِ مسیح‌ میں کئی جنگیں لڑیں، جن میں سب سے اہم جنگ سکندر کے ایک سالار سِلوکس کے ساتھ ہوئی۔ چندرگپت موریہ جین مت کا پیروکار تھا۔

کوٹیلہ چانکیہ اسی عظیم شہنشاہ کا ایک اتالیق اور وزیرِ اعظم تھا۔ اسکا اصل نام وشنو گپت تھا۔اسکے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک بڑا دانا ذہین، طبّاع اور ایک عالم شخص تھا۔ اس کے بارے میں کئی روایات اور قصّے پڑھنے کو ملتے ہیں جن میں غالبا مذہب اور معاشرت کے تفاوت کی بنیاد پر اس کی کردار کُشی بھی کی گئی ہے۔ مشہور ہے کہ وہ ایک حاسد انسان تھا اور اسی لیے وہ کوٹلیا مشہور ہوا۔ ذات کا برہمن تھا۔ اسی کی مدد سے چندر گپت نے عظیم الشان سلطنت قائم کی اور تاریخ میں‌ اپنا نام لکھوانے میں‌ کام یاب رہا۔

چانکیہ 375 قبل مسیح میں ٹیکسلا (موجودہ پنچاب، پاکستان) میں پیدا ہوا۔اس اعتبار سے وہ سن آف دی سوائل بھی ہے تاہم اسکی نظریاتی میراث کے اصل وارث سرحد کے اس پار ہی بستے ہیں۔ چانکیہ کو بہت سے تاریخ دان سیاسی اور ریاستی امور کے ماہر اور ایک فلسفی کے طور پر جانتے ہیں۔ اسے قدیم ہندوستان کا میکاولی قرار دیاجاتا ہے۔ میکاولی کی طرح چانکیہ بھی انسانی کے باہمی تعلقات یا حکمرانی تمام رشتوں میں چالاکی،بددیانتی اور مکروفریب کا قائل تھا۔یہی نہیں چانکیہ ریاستی اور بین الاقوامی امور میں بد دیانتی اور مکر و فریب کی پالیسی کا پرچارک تھا۔ قدیم اور جدید ہندوستان میں اسے اپنی فکر کی وجہ سے ہمیشہ پذیرائی ملتی رہی ہے۔ اس خطے میں اسے ایک پولیٹیکل فلاسفر اور سٹریٹجک امور کا ماہر سمجھا جاتا رہا ہے۔

1947 کے بعد جب قریب ہزار سال بعد ہندؤں کو باقی مانندہ ہند کی مرکزی حکمرانی نصیب ہوئی تو انہوں نے فورا اپنے اس روحانی والد کی مریدی اختیار کرلی۔ ہندوستانی حکمران روز اول سے ہی ملک کے اندر اور باہر اپنی چانکیہ کی تعلیمات پر مبنی منافقانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کو مسلسل مکروفریب کے ذریعے تیسرے درجے کے شہری بنانے میں سرگرم عمل ہیں۔

بھارتی معاملات میں چانکیہ کی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ بھارتی دارلحکومت میں قائم سفارتی علاقے کو اس کے نام سےمنسوب کیا گیا ہےاور یہ چانکیہ پوری کہلاتا ہے۔۔۔

منافقت، مکروفریب اور حددرجہ بےایمانی ۔۔ چانکیہ کی تعلیمات کا اصل ماخذ اسکی کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ ہے۔ یقینا اپنے دور کے اعتبار سے اس کتاب کو ایک عظیم تصنیف قرار دیاجاسکتا ہے۔

اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدّن، علوم و فنون، معیشت، ازدواجیات، سیاسیات، صنعت و حرفت، قوانین، رسم و رواج، اور ریاستی امور سمیت کئی اہم موضوعات چانکیہ نے اپنی فکر اور علمیت کا اظہار کیا ہے۔ماہرین و محققین متفق ہیں کہ یہ کتاب 300 سے 311 قبلِ مسیح کے دوران لکھی گئی۔ اس کتاب کا اصل متن سنسکرت میں تھا اور یہ 1904ء میں دریافت ہوئی۔ 1905ء میں اسے پہلی بار کتابی شکل دی گئی اور بعد کے ادورار میں اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

ارتھ شاستر کو چانکیا کا علمی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے جس کے تین بنیادی حصّے ہیں۔ ایک انتظامیہ، دوسرا ضابطہ و قانون اور انصاف کے مباحث پر مشتمل ہے اور تیسرے میں خارجہ پالیسی کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ تہذیب اور تمدّن پر نہایت عمدہ مضامین شامل ہیں۔

چانکیا اور اس کی تصنیف ارتھ شاستر کی نسبت متضاد آرا مشہور ہیں اور اس پر مباحث کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستانی اور مغربی محققین چانکیا جیسے کسی شخص کے وجود اور اس کی کتاب کے متن پر بھی شک و شبہ ظاہر کرتے رہے ہیں اور اس بارے میں اختلافِ رائے موجود ہے، لیکن بعض مغربی محققین اور مستشرقین کا کہنا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کتاب چانکیہ کی تصنیف ہے یا نہیں، لیکن یہ اپنے وقت کی اہم ترین اور لائقِ مطالعہ کتاب ضرور ہے جس نے موجودہ دنیا کو ایک قدیم تاریخ اور تہذیب کی کہانی سنائی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چانکیہ کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر کیسے تقسیم کے وقت ہندوستان نے پانچ شاندار ریاستوں کو زبردستی اپنے ساتھ الحاق پر مجبور کیا؟؟

موجودہ دور میں چانکیہ کے چیلے کیسے منافقت سے بھرپور خارجہ و داخلہ پالیسی ترتیب دے رہےہیں؟؟

یہ سب اور بہت کچھ جاننے کیلئے چینل کو سبسرائیب کریں اور بیل آئیکن کو کلک کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 


بھارت کو کورونا سے حاصل فوائد

 

بھارت کو کورونا سے حاصل فوائد

کووڈ نائینٹین یا کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں خوف و ہراس مچا رکھا ہے، کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہوئے اور لاکھوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

کورونا وائرس نے پوری دنیا کا رہن سہن اور انداز زندگی بدل کر رکھ دیا ہے۔

2019 کے اواخر میں ظاہر ہونے والی اس خونی وبا کے باعث اب تک اربوں نہیں کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔ دنیا بھر کے لاکھوں کاروبار تباہ اور تاجر قلاش ہوچکے، کروڑوں لوگوں میں اشیاء ضروریات تک خریدنے کی سکت باقی نہیں رہی۔باقی مانندہ آبادی بھی مستقبل قریب میں لاحق اندیشوں سے دوچار ہے۔ اور ماہرین انتہائی وثوق کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ دنیا اب ویسی نہیں ہوگی جیسے کرونا کے آنے سے قبل ہوا کرتی تھی۔

غرض کورونا وبا نے دنیا کو ہمیشہ کیلئے تبدیل کرڈالا ہے۔ کئی ملکوں پر عذاب کی شکل میں مسلط ہوا مگر دنیا میں ایک ملک ایسا بھی جو اس وبا کے باعث بہت ذیادہ فائدے میں رہا۔۔۔

کیسے ۔۔۔ آئیے ہم بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قائداعظم اپنی سیاسی زندگی کی ابتداء میں ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ مگر ہندوستان کے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات نے انہیں جلد ہی اس حقیقت کا احساس دلادیا کہ انگریزوں سے آزادی کے بعد  ہندو اپنی اکثریت کی بناء پر غلبہ وتسلط حاصل کرلیں گے۔ بھارتی اقتدار پر آر ایس ایس کے تخریبی نظریات کی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے قبضے کے بعد سے بھارت میں مذہبی انتہاپسندی پر مبنی فیصلے، بل اور قانون منظر عام پر آرہے ہیں۔گزشتہ برس جدید شدی یا سنگھٹن تحریک کے پہلے مرحلے میں آسام میں قریب بیس لاکھ مسلمانوں کو غیرملکی قرار دے دیا گیا۔اسکے بعد اعلان کیا گیا کہ ملک بھر میں اسی  طرز پر این آر سی کو نافذ کیا جائے گا۔ این آر سی کا نفاذ ہوا تو ہرشہری کو تین نسلوں کا جواب دینا ہوگا اور نئے شہریت قانون کے مطابق تارک وطن مسلمانوں کو بھارتی شہریت نہیں دی جائے گی۔ اسکا واضح معنی یہی ہے کہ آسام کے بیس لاکھ مسلمانوں کی طرح مزید لاکھوں یا شاید کروڑوں مسلمانوں کو ہندوستان بدر کیا جانے کا باقاعدہ پلان قانونی طریقے سے تیار کیا گیا۔  اس صورت میں مسلمان صرف نام کے ہی آزاد ہوں گے اور ان کی آنے والی نسلوں کی زندگی ہندؤں کی غلامی میں کٹے گی ،اور دینی، تہذیبی اور تمدنی تشخص بھی برقرار نہ رہ سکے گا۔ وہ دوسرے درجے کے شہری ہوں گے جن کا کوئی مستقبل نہ ہوگا اور ترقی کے سب دروازے بند رہیں گے۔وقت نے جناحؒ کے یہ تمام خدشات درست ثابت کئے، ہندوستان میں رہ جانے والےمسلمانوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم ہندو انتہاپسندوں کے اقتدار پر مکمل قبضے اور حالیہ دنو ں میں بھارت  کے ریاستی سطح پر کئے جانے والے اقدامات نے ایک بار پھر جناحؒ کو سچاثابت کیا ۔ گو کہ  بھارتی پارلیمان سے شہریت کے متنازع ترمیمی بل کی منظوری  کوحزب اختلاف سمیت دیگر سماجی حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا رہا اور ملک بھر کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا علاوہ ازیں مسلم کُش فسادات کی راہ بھی ہموار کی گئی، معاملہ اس حد تک بڑھا کہ کئی ریاستوں میں خانہ جنگی کا خطرہ تک منڈلانے لگا تاہم عالمی وبا کے باعث بکھرتے بھارت کو ایک بار پھر کھڑے ہونے کا موقع مل گیا۔

 

دوسری طرف چانکیہ کے پیروکاروں نے اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت کا خاتمہ کیا۔اور خطے کو مرکز کے زیرِ انتظام دو حصوں لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کر دیا تھا۔اس سے قبل ہی بھارت نواز سیاستدانوں سمیت کشمیر کے تمام سرکردہ رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور وہاں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا۔ظلم و بربریت کی اس نئی داستان کیخلاف

پاکستان گزشتہ بہتر سالوں کی طرح کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی و اخلاقی حمایت کا بوجھ اٹھائے ہوئے دنیا کے سامنے بھارتی جبرکیخلاف گریہ کناں رہا۔ ہم بہترسالوں میں کشمیر یوں کے ساتھ سادہ خوشبو یکجہتی  اور ایام  شہداء مناتے آرہے ہیں ۔ان کے لئے عالمی حمایت کی بھیک مانگتے رہے ہیں ، ہمارا موقف رہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا ہماراموقف سنتی اور تسلیم کرتی ہے۔اقوام متحدہ کےذیلی ادارے ہوں ،او آئی سی یا دیگرعالمی و علاقائی فورمز۔ہم ہرفورم پر کشمیریو ں کے حق خود ارادیت کیلئے  سفارتی و اخلاقی کامیابی کے دعوے کرتے رہے ۔ پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بھی پاکستانی ریاست مکمل طورپر کشمیریوں کی ہر ممکن حمایت میں لگی رہی اور کافی حد تک اس معاملے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں کامیاب بھی رہی مگر کورونا کے آتے ہی دنیا کو اپنی فکر لاحق ہوگئی اور بھارت کو مظالم اور جبر بڑھانے کیلئے ایک بہترین موقع میسر آگیا جسکا وہ بھرپور انداز میں فائدہ اٹھارہا ۔۔۔

غرض کورونا وبا نے دنیا کو ہمیشہ کیلئے تبدیل کرڈالا ہے۔ کئی ملکوں میں نقصانات صدیوں کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں مگر بھارت اس صورتحال میں بھی فائدے میں ہے ۔۔۔ صرف مسلمان اور کشمیری ہی نہیں سکھ، دلت اور دیگر اقوام بھی ہندوتوا کے عذاب کا شکار بن رہی ہیں۔۔ جن کے بارے میں ہم اپنی آنے والی ویڈیوز میں آپکو بتائیں گے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارت سے متعلق مزید معلوماتی ویڈیوز دیکھنے کیلئے سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن کو کلک کردیں۔۔

 

 

بھارت میں زبردستی ضم کی گئی ریاستیں!

 

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونےکا دعویدار۔۔۔بھارت ایک سو تیس کروڑ افرادپر مشتمل ۔۔آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ۔۔ کیا ایک کامیاب جمہوریت ہے؟یا پھر کیا یہ ایک جمہوریت کہلانے کے لائق بھی ہے ؟

ہندوستان میں انتخابات کا شور ہےمگر کیا ہے ہندوستانی جمہور کی اصل آواز؟

حقیت یہ ہے کہ خود کو کامیاب اور شاندار جمہوریت قرار دینے والا بھارت کبھی ایک جمہوریت تھا ہی نہیں ۔۔

۔۔۔۔

اپنی بھارت سیریز میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیسے تقسیم ہند کے وقت دھونس دھاندلی اور طاقت کے ذریعے  بھارتی وزیرداخلہ ۔سردار ولبھ  بھائی پٹیل نے سیکرڑوں آزاد ریاستوں کو غلام بنایا ۔

اور ہم آپکو یہ بھی بتائیں گے کہ خود کو جموریت کا چیمپئن قراردینے والابھارت۔کیسے جمہور کی آوازطاقت سے دبا نے میں جٹا ہوا ہے۔ مگرظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے کے باوجودٹوٹ پھوٹ کاشکار ہے۔ 

دیکھئے ہماری ۔۔بھارت سیریز ۔۔۔۔۔۔ جس میں ہم ہندوستان کی تاریخ کے چند اہم حقائق سے ۔ حجاب اٹھائیں گے ۔۔۔۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں اس وقت 67 علیحدگی کی تحریکیں کام کر رہی ہیں۔ جن میں 17بڑی اور 50چھوٹی تحریکیں ہیں ۔

کشمیر کی تحریک حریت  پر پاکستانی دراندازی کا لیبل لگا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک دی جاتی ہے ۔مگر ۔کیا بھارت  پاکستانی سرحد سے سیکڑوں میل دوری پر جاری ۔ہند مخالف تحاریک پربھی ۔پاکستان کو ملزم قراردے سکتا ہے؟ ۔کیا عالمی برادری  ہندو انتہاپسندوں کے جبرسے مکمل طور پر لاعلم ہے ۔۔یا ۔۔عالمی قوتوں کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ وہ ۔۔اپنے مفادات کی خاطر بھارت میں انسانی حقوق کی سنگین خلاورزیوں پر آنکھیں بند کئے رکھیں۔۔

حقائق یہ ہیں کہ ہندوستان سے آزادی حاصل کرنے کیلئے حریت پسندوں ملک بھر میں کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں۔ صرف آسام میں 34علیحدگی پسند تنظیمیں ہیں۔ 162 اضلاع پرانکا مکمل کنٹرول ہے جبکہ نکسل باڑی تحریک نے خطرناک ترین شکل اختیار کرلی ہے۔خود سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی نکسل باغیوں کو ملک کیلئے سب سے بڑا مسئلہ قرار دے چکے ہیں۔

بھارت میں چلنے والی آزادی اور علیحدگی کی تحریکوں میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ، نیشنل ڈیمو کریٹک فرنٹ، کے ماتا پور لبریشن آرگنائزیشن برچھا کمانڈو فورس، یونائیٹڈ لبریشن ملیشیا ، مسلم ٹائیگر فورس، آدم سینا، حرکت المجاہدین، حرکت الجہاد، کارگورکھا ٹائیگر فورس، پیپلز یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ شامل ہیں۔ منی پور میں پیپلز لبریشن آرمی، منی پور لبریشن ٹائیگر فورس، نیشنل ایسٹ مائینارٹی فرنٹ، کوکی نیشنل آرمی، کوکی ڈیفنس فورس، ناگالینڈ میں نیشنل سوشلسٹ کونسل، تری پورہ میں آل تری پورہ ٹائیگر فورس ، تری پورہ آرمڈ ٹرائیبل والنٹیرز فورس ، تری پور مکتی کمانڈوز، بنگالی رجمنٹ ، مینرو رام میں پروفیشنل لبریشن فرنٹ، پنجاب میں ببر خالصہ انٹرنیشنل، خالصتان زندہ باد فورس، خالصتان کمانڈو فورس، بھنڈرانوالہ ٹائیگر فورس، خالصتان لبریشن فرنٹ، خالصتان نیشنل آرمی ہیں۔ اس کے علاوہ گوہاٹی میں رات کے وقت سڑکوں پر گوریلوں کا راج ہوتا ہے اس لیے غروب آفتاب کے بعد لوگ گھروں باہر نہیں نکل سکتے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارتی پنجاب، ناگا لینڈ، بہار،مغربی بنگال،مقبوضہ کشمیر اور آزادی پسند ریاستوں کے تقریباً 66فیصد عوام بھارت سے اکتا چکے ہیں۔

تاحال بھارت میں ناگالینڈ ، مینرورام ، منی پوراور آسام میں یہ تحریکیں عروج پر ہیں۔جبکہ بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کردی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک عروج پر ہے۔ چین لداخ اور ارونا چل پردیش پر نظریں گاڑھے بیٹھا ہے اور نہ صرف کشمیر بلکہ اروناچل پردیش کے شہریوں کو چین کے ویزا سے مستثنٰی قرار دے چکا ہے۔ بھارت مسلسل الزام لگارہا ہے کہ چین اروناچل پردیش اور لداخ میں مداخلت کرکےبھارت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان تحریکوں نے بھارت کے دیگر حصوں بہار،آندھرا پردیش، مغربی بنگال پر بھی اثرڈالا ہے۔ کچھ علیحدگی پسند تنظیمیں بھارت ، بھوٹان سرحد پر چل رہی ہیں۔ بھارت اور بھوٹان کے درمیان بھی گداز سرحد ہے جو کہ کمزور کمان کے درمیان دوڑ رہی ہے۔ بھارت کئی مرتبہ بھوٹان پر الزام لگا چکا ہے کہ اس نے اپنی سرزمین پر تخریب کاروں کو تربیت دینے کے لیے کیمپ کھول رکھے ہیں جو کہ ہندوستان میں کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ بوڈو قبائل کے لوگوں نے آسام کے اندر ایک اور گروہ منظم کر رکھا ہے جسے نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ گروہ بھی برہمن کی جان لیوا آزاریوں سے تنگ آکر اپنے علاقے بوڈو لینڈ کی مکمل خود مختیاری کی جنگ لڑ رہا ہے۔ 3 اکتوبر1965 کو اوڈلا خاصی بائی کے مقامپر اس گروہ کی باقاعدہ تشکیل عمل میں لائی گئی۔ اسے بوڈو سیکورٹی فورس کے نام سے بھی مقامی علاقوں میں یاد کیا جاتا ہے۔ بھارت اور بھوٹان کے سرحدی علاقوں میں اس عسکری گروہ آزادی کے تربیتی کیمپس قائم ہیں۔ دسمبر 2003 میں بھارتی اور بھوٹانی افواج نے مشترکہ آپریشن کے ذریعے ان تربیتی کیمپوں کو ختم کرنے کی کوشش کی لیکن جن تحریکوں کو عوامی حمایت حاصل ہو انہیں کوئی بڑی سے بڑی قوت بھی کیونکر دبا سکتی ہے۔ 24 مئی 2005 کو بھارتی حکومت نے اس گروہ کے ساتھ معاہدہ صلح کیا لیکن بھارتی حکومت نے اسے جلد ہی بھلا دیا۔ نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ کے وائس چیئرمین جی بدائی اور اس کے ساتھ 20 لوگوں کا کلیدی گروہ آج کل بھارتی فورسز کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔ بھارتی فورسز ان کو روکنے اور ایک علاقہ تک مخصوص کرنے میں بری طرح ناکام ہو رہی ہیں۔ علاقے میں پے در پے آپریشن کئے جارہے ہیں لیکن نتائج کچھ بھی نہیں۔ آپریشن طویل ہونے اور کوئی نتیجہ نہ نکلنے پر اب فورسز پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ستمبر2015 میں بھی بوڈو قبائل کی تنظیم کے خلاف ایک ایسا ہی آپریشن کیا گیا تھا جو کہ بالکل ناکام ہوا۔ بوڈو تحریک بجائے ختم ہونے کے اور پھیل گئی۔ بھارتی پولیس، فوج اور پیراملٹر ی فورسز کا آپریشن گزشتہ چار ماہ سے جاری ہے لیکن علیحدگی پسندتنظیم کابال بھی بیکا نہ ہوسکا۔ آپریشن کے وقت یہ باغی گروہ بھوٹان کی سرحد پار کر کے گھنے جنگلوں اور پہاڑوں میں چھپ جاتا ہے اور بھارتی فورسز ہاتھ ملتی رہ جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ (این ڈی ایف بی) کے اسلحہ بردار لوگوں نے کوکڑا جھار ضلع میں بس سے شیلانگ جا رہے آٹھ ہندی بولنے والوں کا قتل کر دیا۔ آسام میں شمالی ہند کے لوگوں کو ایسے وقت میں نشانہ بنایا گیا ہے، جب حکومت ہند اور علیحدگی پسندوں کے درمیان امن مذاکرات چل رہے تھے۔ این ڈی ایف بی (ایس) کے کمانڈر اِن چیف سنگ وجت پر آسام پولیس نے دس لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کر رکھا ہے۔ آسام میں تشدد کی حمایت کرنے والے سنگ وجت کا کہنا ہے کہ فوج ریاست کے اندر لوگوں کو کچلنے کا کام کر رہی ہے، اس لیے ان کے کیڈر ہندی بولنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ آسام بنگلہ دیش اور بھوٹان کی سرحدوں سے متصل بھارتی ریاست ہے جہاں نیشنل ڈیموکریٹک فرنٹ آف بوڈولینڈ کافی عرصے سے علیحدہ وطن کیلئے مسلح تحریک چلا رہی ہے۔

بھارت میں جاری یہ علیحدگی کی خواہاں تحریکیں اس کے لیے دردِ سربنی ہوئی ہیں۔مودی سرکار نے بھارت کے اندر سے اٹھنے والی تحریکوں کو دبانے کے لیے شمشیر کا خوب استعمال کیا۔ حقوق کے مطالبے کے جرم کی پاداش میں انہیں خوب سزا دی۔ اگر صرف کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کاجائزہ لیں تو بھارت نے کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بزورِ شمشیر دبانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا۔ انہیں بے دردی سے قتل بھی کیا اور بدنامِ زمانہ پیلٹ گنوں کے دہانے کشمیریوں پر کھول دیے جس سے ان کی آنکھیں ضائع ہو گئیں ، جسم چھلنی ہو گئے۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے اور بھارت سے علیحدگی کے علاوہ کوئی بھی سکیم قبول کرنے کو تیار نہیں۔علیحدگی پسندوں کی یہ تحریکیں بھارت کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔

////////////////////////////////////////////////////////


  INDIA SERISE   *اٹھتے ہیں حجاب آخر*CopyRights Reserved for Program

ہندوانتہا پسندوں کی نئی تاریخ

ہندوانتہا پسندوں کی نئی تاریخ  ۔۔

ایڈولف ہٹلر جدید دنیا کا ایک عظیم رہنما تھا، اسکی پالیسیوں نے جنگ عظیم اول کے بعد تباہ حال جرمنی کو ایک بار پھر یورپ کا مضبوط ترین ملک بنادیا ۔۔۔مگر۔۔اسے لگتا تھا جرمن قوم دنیا میں موجود تمام قوموں سے برتر ہے۔۔ دنیا کی ہر اچھی چیز پر صرف ۔۔آریہ ۔۔یعنی جرمن قوم کاحق ہے۔۔نسلی برتری کے اس تعصب نے اسے دنیا کا بھیانک ترین شخص بناڈالا۔۔

ہٹلر کی یہی بیماری آج کل ہمارے پڑوس  میں بڑھ رہی ہے ۔۔ جب سے ہندو انتہاپسند برسرِ اقتدار آئے ہیں ۔۔ہندواتا سرچڑھ کربول رہی ہے۔۔یا یوں کہا جائے کہ ہزار  سال کی غلامی کے بعد  اعلی ٰ عہدوں پر پہنچ کرانتہاپسند نیم طاقت کے نشے اور غرور میں نیم پاگل ہوچکے ہیں ۔۔قصوں اور کہانیوں پر مبنی خیالات کو جدید سائنس اور ایجادات پر تھوپنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔

رواں ماہ انڈین سائنس کانگریس کا 106ویں اجلاس ہوا جسکا افتتاح وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کیا ۔یہ تاریخ ساز اجتما ع کیوں تھا۔۔آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔۔

اس اجتماع میں بھارتی  سائنس دانوں نے آئن سٹائن اور نیوٹن کے نظریات مسترد کر دیے۔۔ دعویٰ کیا گیا کہ پہلی بار قدیم ہندوؤں نے سٹیم سیل پر تحقیق کی تھی۔ اور ہندو دیومالا پر مبنی نظریات پیش کیے گئے۔یہ کانفرنس پہلے بھی ہوتی رہی ہے لیکن اس بارحد ہی ہو گئی ہے۔

 جنوبی انڈیا کی ایک یونیورسٹی کے سربراہ نے قدیم ہندو تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قدیم ہندوؤں نے ہزاروں سال پہلے سٹیم سیل پر تحقیق کی تھی۔آندھرا یونیورسٹی کے وائس چانسلر نگیشور راؤ نے کہا کہ ہندو مقدس کتاب رامائن میں ایک بادشاہ کا ذکر ملتا ہے جن کے پاس 24 قسموں کے ہوائی جہاز تھے اور وہ انھیں سری لنکا کے ہوائی اڈوں پر اتارا کرتے تھے۔

تامل ناڈو کی ایک یونیورسٹی کے ایک سائنس دان ڈاکٹر کے جے کرشنن نے کہا کہ آئزک نیوٹن اور آئن سٹائن دونوں غلط تھے اور دریافت ہونے والی کششِ ثقل کی لہروں کا نام 'نریندر مودی لہریں' رکھنا چاہیے۔

یہاں میں ایک بار پھر واضح کردو ں کہ یہاں ہم کسی مذہب یا مذہبی روایات کا مذاق نہیں اڑا رہے ۔۔ قدیم مذہبی تحریریں پڑھنی ضرور چاہییں لیکن ان سے بغیر کسی تصدیق  کے سائنسی نظریے اخذکرنا معصوم عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔

خودانڈین سائنٹفک کانگریس ایسوسی ایشن نے اس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے خیالات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری پریمندو ماتھر نے کہتے ہیں

'ہم ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں اور خود کو اس سے الگ رکھتے ہیں۔ ۔ ذمہ دار لوگوں کی طرف سے ایسی باتیں کرنا سخت تشویش کا باعث ہے۔'

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاہم یہ نظریات صرف حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے جتن کرنے والے سائنسدانوں کےہی نہیں ۔۔خود مودی نے 2014 میں ممبئی ہسپتال کے سٹاف سے کہا تھا کہ بھگوان گنیش کا ہاتھی کا سر ایک انسانی جسم سے جڑا ہونے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قدیم انڈیا میں ہزاروں سال پہلے کاسمیٹک سرجری ہوا کرتی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ طب کے میدان میں ہمارے ملک نے ایک زمانے میں کیا حاصل کیا کر لیا تھا۔۔ ہم سب نے مہابھارت میں کرن کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔ ہم ذرا غور کریں تو ہم پائیں گے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں جینیٹک سائنس موجود تھی۔'

اس طرح کے نہ جانے کتنے دعوے کیے جاتے ہیں۔ اسکے بہت سے وزیر بھی ایسے ہی خیالات کے حامل ہیں اور انکے مطابق ہندو ایک شاندار ماضی کے وارث ہیں اور بھارت میں ہزاروں سال پہلے سائنس اور ٹیکنالوجی عروج پر تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سنہ 2017 میں انڈیا کے نائب وزیر تعلیم ستیپال سنگھ نے کہا تھا کہ پہلی بار طیاروں کا ذکر رامائن میں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا پرواز کرنے والا طیارہ ایک انڈین شخص شواکر بابوجی تلپڈے نے ایجاد کیا تھا اور ایسا طیاروں کے موجد رائٹ برادرز کی ایجاد سے آٹھ سال پہلے کیا گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انڈیا میں آج کل گائے کا تحفظ ایک اہم سیاسی موضوع بنا ہوا ہے جس سے سماجی اور سیاسی انتشار بڑھ رہا ہے۔۔ آئے دن کسی نہ کسی ریاست میں گاؤ ریکشک ۔۔کسی نہ کسی مسلمان کو گائے رکھنے ۔۔لے جانے ۔۔ یا ذبح کرنے پر شہید کردیتے ہیں۔۔ تاہم اس معصوم جانور کے نام پر نہ صرف مسلمان نشانہ ہیں بلکہ خود ہندؤں کو بھی غلاضت کے ڈھیر میں دکھیلنے کی کوششیں جاری ہیں۔۔

سنہ 2017 میں ہی مغربی ریاست راجستھان کے وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ گائے کی ’سائنسی اہمیت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ وہ دنیا کا واحد ایسا جانور ہے جو سانس لیتے وقت آکسیجن اندر لیتا ہے بلکہ سانس چھوڑتے وقت بھی اکسیجن ہی باہر بھی نکالتا ہے۔گاؤ بھگتا صرف انتہاپسند سیاستدانوں کا ہی شغل نہیں انتہائی پڑھے لکھے اور قابل افراد بھی اس مہم میں جٹے ہوئے ہیں۔۔۔

راجستھان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مہیش چند شرماکے مطابق ۔۔ گائے کا پیشاب اگر آپ پی سکتے ہیں تو عمر ڈھلنے کی رفتار ٹھہرے گی تو نہیں لیکن سست ضرور پڑ جائے گی، ساتھ ہی کچھ اور فائدے بھی ہیں۔ اس سے آپ کا جگر، دل اور دماغ بھی صحت مند رہے گا۔۔یہی نہیں ۔۔ گاؤ موتر پینے سے ، پچھلے جنم کےگناہ بھی دھل جائیں گے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2018 میں ٹیکنالوجی کی جنگ میں نیا تیر شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیو نے چلایا تھا اور کہا تھا کہ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے اور ہزاروں سال پہلے براہ راست نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیو  فرماتے ہیں کہ قدیم ہندوستان باقی دنیا سے بہت پہلے ٹیکنالوجی کے نئے محاذ پار کر چکا تھا۔۔اسکاکہنا ہے کہ۔۔ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے اور ہزاروں سال پہلے براہ راست نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا کہ  مہا بھارت کی جنگ کے دوران سنجے نے دھرت راشٹر کو جنگ کا آنکھوں دیکھا احوال سنایا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ بھی تھا اور سیٹلائٹ بھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارت کی  سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما کا دعویٰ ہے کہ ۔۔انڈیا میں قبل از مسیح ٹیسٹ ٹیوب بےبی کی ٹیکنالوجی موجود تھی ۔۔جسکی مثال سیتا جی کی مٹی کے گھڑے سے پیدائش ہے۔۔جو جنک جی نے ہل چلایا اور گھڑے سے بے بی نکلی جو سیتا جی بن گئی۔ یہ آج جو ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی ہے وہ رہا ہو گا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

'اسی دنیش شرما نے یوم ہندی صحافت کے موقعے پر صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کرڈالا کہ 'صحافت کی ابتدا مہابھارت دور میں ہوئی تھی۔۔اسی طرح اس نے ایک دوسرے کردار 'نارد' کو آج کا 'گوگل' قرار دیا۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسکا کہنا تھا کہ گوگل آج شروع ہوا ہے لیکن ہمار گوگل صدیوں پہلے سے ہے۔ نارد منی معلومات کا خزانہ تھے۔ وہ کہیں بھی پہنچ سکتے تھے اور تین بار 'ناراین' کہتے ہوئے کوئی بھی پیغام کہیں بھی پہنچا سکتے تھے۔'

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہندو قوم پرست رہنما اپنے شاندار ماضی کی تصویر کشی کے لیے ایسی باتیں اس لئے کہتے ہیں کہ یہ ثابت ہو کہ قدیم ہندوستان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں موجودہ دور سے کہیں آگے تھا۔۔ اور انکا احساس کمتری دور ہو سکے۔۔  وہ احساس کمتری جو مسلمانوں اور بعدمیں انگریزوں کی حکمرانی سے انکی خود ساختہ تہذیب کے دب جانے سے پیدا ہوئی۔۔ اسی لئے جب انکی اوٹ پٹانگ باتوں پر گرفت کی جاتی ہے تو انکا موقف دلیل نہیں ۔۔۔ بلکہ یہ ہوتا ہے کہ جو ان کا مذاق اڑا رہے ہیں ان میں 'قوم پرستی کی کمی' ہے۔

یہ ضروری ہےکہ بھارت کا باشعور طبقہ ہوش میں آجائے اور ان نیم پاگل انتہاپسندوں سے اپنے ملک کو آزاد کروا ئے ۔۔ورنہ ۔۔ایسی بے ڈھنگ تحریک کا انجام ۔۔اسی باشعور طبقے اور بھارت  کو جھیلنا پڑے گا ۔۔۔




 CopyRights reserved ---- Program *اٹھتےہیں حجاب آخر*