ہندوانتہا پسندوں کی نئی تاریخ
ہندوانتہا پسندوں کی نئی تاریخ ۔۔
ایڈولف ہٹلر جدید دنیا کا ایک عظیم رہنما تھا،
اسکی پالیسیوں نے جنگ عظیم اول کے بعد تباہ حال جرمنی کو ایک بار پھر یورپ کا
مضبوط ترین ملک بنادیا ۔۔۔مگر۔۔اسے لگتا تھا جرمن قوم دنیا میں موجود تمام قوموں
سے برتر ہے۔۔ دنیا کی ہر اچھی چیز پر صرف ۔۔آریہ ۔۔یعنی جرمن قوم کاحق ہے۔۔نسلی
برتری کے اس تعصب نے اسے دنیا کا بھیانک ترین شخص بناڈالا۔۔
ہٹلر کی یہی بیماری آج کل ہمارے پڑوس میں بڑھ رہی ہے ۔۔ جب سے ہندو انتہاپسند برسرِ
اقتدار آئے ہیں ۔۔ہندواتا سرچڑھ کربول رہی ہے۔۔یا یوں کہا جائے کہ ہزار سال کی غلامی کے بعد اعلی ٰ عہدوں پر پہنچ کرانتہاپسند نیم طاقت کے
نشے اور غرور میں نیم پاگل ہوچکے ہیں ۔۔قصوں اور کہانیوں پر مبنی خیالات کو جدید
سائنس اور ایجادات پر تھوپنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
رواں ماہ انڈین سائنس کانگریس کا 106ویں اجلاس ہوا جسکا افتتاح وزیرِ اعظم
نریندر مودی نے کیا ۔یہ تاریخ ساز اجتما ع کیوں تھا۔۔آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں۔۔
اس اجتماع میں بھارتی سائنس دانوں نے آئن سٹائن اور نیوٹن کے نظریات
مسترد کر دیے۔۔ دعویٰ کیا گیا کہ پہلی بار قدیم ہندوؤں نے سٹیم سیل پر تحقیق کی
تھی۔ اور ہندو دیومالا پر مبنی نظریات پیش کیے گئے۔یہ کانفرنس پہلے بھی ہوتی رہی
ہے لیکن اس بارحد ہی ہو گئی ہے۔
جنوبی انڈیا کی ایک
یونیورسٹی کے سربراہ نے قدیم ہندو تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قدیم ہندوؤں
نے ہزاروں سال پہلے سٹیم سیل پر تحقیق کی تھی۔آندھرا یونیورسٹی کے وائس چانسلر
نگیشور راؤ نے کہا کہ ہندو مقدس کتاب رامائن میں ایک بادشاہ کا ذکر ملتا ہے جن کے
پاس 24 قسموں کے ہوائی جہاز تھے اور وہ انھیں سری لنکا کے ہوائی اڈوں پر اتارا
کرتے تھے۔
تامل ناڈو کی ایک یونیورسٹی کے ایک سائنس دان ڈاکٹر کے جے کرشنن نے کہا کہ آئزک
نیوٹن اور آئن سٹائن دونوں غلط تھے اور دریافت ہونے والی کششِ ثقل کی لہروں کا نام
'نریندر مودی لہریں' رکھنا چاہیے۔
یہاں میں ایک بار پھر واضح کردو ں کہ یہاں ہم کسی مذہب یا مذہبی روایات کا
مذاق نہیں اڑا رہے ۔۔ قدیم مذہبی تحریریں پڑھنی ضرور چاہییں لیکن ان سے بغیر کسی
تصدیق کے سائنسی نظریے اخذکرنا معصوم عوام
کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
خودانڈین سائنٹفک کانگریس ایسوسی ایشن نے اس کانفرنس میں پیش کیے جانے والے
خیالات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ۔ ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری پریمندو ماتھر
نے کہتے ہیں
'ہم ان کے خیالات سے متفق نہیں ہیں اور خود کو اس سے الگ رکھتے ہیں۔ ۔ ذمہ دار
لوگوں کی طرف سے ایسی باتیں کرنا سخت تشویش کا باعث ہے۔'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاہم یہ نظریات صرف حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے جتن کرنے والے
سائنسدانوں کےہی نہیں ۔۔خود مودی نے 2014 میں ممبئی ہسپتال کے سٹاف سے کہا تھا کہ
بھگوان گنیش کا ہاتھی کا سر ایک انسانی جسم سے جڑا ہونے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ
قدیم انڈیا میں ہزاروں سال پہلے کاسمیٹک سرجری ہوا کرتی تھی۔اس کا کہنا تھا کہ ہمیں
اس بات پر فخر ہونا چاہیے کہ طب کے میدان میں ہمارے ملک نے ایک زمانے میں کیا حاصل
کیا کر لیا تھا۔۔ ہم سب نے مہابھارت میں کرن کے بارے میں پڑھ رکھا ہے۔ ہم ذرا غور
کریں تو ہم پائیں گے کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اس کا مطلب یہ
ہے کہ اس زمانے میں جینیٹک سائنس موجود تھی۔'
اس طرح کے نہ جانے کتنے دعوے کیے جاتے ہیں۔ اسکے بہت سے وزیر بھی ایسے ہی
خیالات کے حامل ہیں اور انکے مطابق ہندو ایک شاندار ماضی کے وارث ہیں اور بھارت میں
ہزاروں سال پہلے سائنس اور ٹیکنالوجی عروج پر تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سنہ 2017 میں انڈیا کے نائب وزیر تعلیم ستیپال سنگھ نے کہا تھا کہ پہلی بار
طیاروں کا ذکر رامائن میں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا پرواز کرنے والا
طیارہ ایک انڈین شخص شواکر بابوجی تلپڈے نے ایجاد کیا تھا اور ایسا طیاروں کے موجد
رائٹ برادرز کی ایجاد سے آٹھ سال پہلے کیا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انڈیا میں آج کل گائے کا تحفظ ایک اہم سیاسی موضوع بنا ہوا ہے جس سے سماجی اور
سیاسی انتشار بڑھ رہا ہے۔۔ آئے دن کسی نہ کسی ریاست میں گاؤ ریکشک ۔۔کسی نہ کسی
مسلمان کو گائے رکھنے ۔۔لے جانے ۔۔ یا ذبح کرنے پر شہید کردیتے ہیں۔۔ تاہم اس
معصوم جانور کے نام پر نہ صرف مسلمان نشانہ ہیں بلکہ خود ہندؤں کو بھی غلاضت کے
ڈھیر میں دکھیلنے کی کوششیں جاری ہیں۔۔
سنہ 2017 میں ہی مغربی ریاست راجستھان کے وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ گائے کی
’سائنسی اہمیت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ وہ دنیا کا واحد ایسا جانور ہے
جو سانس لیتے وقت آکسیجن اندر لیتا ہے بلکہ سانس چھوڑتے وقت بھی اکسیجن ہی باہر
بھی نکالتا ہے۔گاؤ بھگتا صرف انتہاپسند سیاستدانوں کا ہی شغل نہیں انتہائی پڑھے
لکھے اور قابل افراد بھی اس مہم میں جٹے ہوئے ہیں۔۔۔
راجستھان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مہیش چند شرماکے مطابق ۔۔ گائے کا پیشاب اگر
آپ پی سکتے ہیں تو عمر ڈھلنے کی رفتار ٹھہرے گی تو نہیں لیکن سست ضرور پڑ جائے گی،
ساتھ ہی کچھ اور فائدے بھی ہیں۔ اس سے آپ کا جگر، دل اور دماغ بھی صحت مند رہے گا۔۔یہی
نہیں ۔۔ گاؤ موتر پینے سے ، پچھلے جنم کےگناہ بھی دھل جائیں گے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2018 میں ٹیکنالوجی کی جنگ میں
نیا تیر شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیو نے چلایا تھا اور
کہا تھا کہ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے اور ہزاروں سال پہلے براہ راست
نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے
نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما کا دعویٰ ہے کہ ۔۔انڈیا میں قبل از مسیح ٹیسٹ ٹیوب بےبی
کی ٹیکنالوجی موجود تھی ۔۔جسکی مثال سیتا جی کی مٹی کے گھڑے سے پیدائش ہے۔۔جو جنک
جی نے ہل چلایا اور گھڑے سے بے بی نکلی جو سیتا جی بن گئی۔ یہ آج جو ٹیسٹ ٹیوب
ٹیکنالوجی ہے وہ رہا ہو گا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
'اسی دنیش شرما نے یوم ہندی صحافت کے موقعے پر صحافیوں سے
خطاب کرتے ہوئے یہ دعویٰ بھی کرڈالا کہ 'صحافت کی ابتدا مہابھارت دور میں ہوئی تھی۔۔اسی
طرح اس نے ایک دوسرے کردار 'نارد' کو آج کا 'گوگل' قرار دیا۔ سرکاری خبر رساں
ایجنسی کے مطابق اسکا کہنا تھا کہ گوگل آج شروع ہوا ہے لیکن ہمار گوگل صدیوں پہلے
سے ہے۔ نارد منی معلومات کا خزانہ تھے۔ وہ کہیں بھی پہنچ سکتے تھے اور تین بار
'ناراین' کہتے ہوئے کوئی بھی پیغام کہیں بھی پہنچا سکتے تھے۔'
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندو قوم پرست رہنما اپنے شاندار ماضی کی تصویر کشی کے لیے ایسی باتیں اس لئے کہتے
ہیں کہ یہ ثابت ہو کہ قدیم ہندوستان سائنس اور ٹیکنالوجی کے معاملے میں موجودہ دور
سے کہیں آگے تھا۔۔ اور انکا احساس کمتری دور ہو سکے۔۔ وہ احساس کمتری جو مسلمانوں اور بعدمیں
انگریزوں کی حکمرانی سے انکی خود ساختہ تہذیب کے دب جانے سے پیدا ہوئی۔۔ اسی لئے
جب انکی اوٹ پٹانگ باتوں پر گرفت کی جاتی ہے تو انکا موقف دلیل نہیں ۔۔۔ بلکہ یہ
ہوتا ہے کہ جو ان کا مذاق اڑا رہے ہیں ان میں 'قوم پرستی کی کمی' ہے۔
یہ ضروری ہےکہ بھارت کا باشعور طبقہ ہوش میں آجائے اور ان نیم پاگل
انتہاپسندوں سے اپنے ملک کو آزاد کروا ئے ۔۔ورنہ ۔۔ایسی بے ڈھنگ تحریک کا انجام
۔۔اسی باشعور طبقے اور بھارت کو جھیلنا
پڑے گا ۔۔۔
CopyRights reserved ---- Program *اٹھتےہیں حجاب آخر*

0 comments:
Post a Comment