سیاستدان ہمیشہ غدار؟
سیاستدان ہمیشہ غدار؟
اٹھتے ہیں حجاب آخر ۔۔۔ از ۔۔۔ احسن
اعوان
مملکت خداداد میں سیاستدان ہمیشہ غدار ہی رہے
۔۔۔ نوازشریف کوئی پہلی شخصیت نہیں جنہیں ایسے الزامات کا سامنا ہے۔۔۔
سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنا اور سیاسی
مخالفین کو غدار قرار دینا پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ قیام پاکستان کے
ساتھ ہی یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ سیاسی مخالفین کی پکڑ ھکڑ اور سیاسی سرگرمیوں
کی حو صلہ شکنی کرنا وزیر اعظم لیاقت علی خان کی قیادت میں قائم حکومت کی اولین
ترجیح تھی ۔
یہ حقیقت عیاں ہے کہ تحریک ِپاکستان کا آغاز بھی بنگال سے ہوا اور مملکت خداداد کی
تعمیر میں سب سے اہم کردار بھی بنگال، یوپی، اور بہار کے مسلمانوں کا تھا مگر یہ
بھی ایک شرمناک حقیقت ہےکہ اسلامی مملکت کے قیام کیلئے سب سے ذیادہ متحرک اور
سرگرم رہنماؤں کو ہی سب سے پہلے غداری کے سرٹیفکٹس تھمائے گئے۔سب سے پہلے تو حسین
شہید سہروردی کو نہ صرف غدار بلکہ کتا تک کہا گیا تھا ۔ پھر ایک وقت آیا کہ یہی
غدار پاکستان کا وزیر اعظم بنا ۔ مسلم لیگ کے علاوہ کسی دوسری سیاسی جماعت کا قیام
ملک دشمنی اور اسلام دشمنی کے مترادف قرار دے دیا گیا تھا ۔ کمیونسٹ پارٹی آف
پاکستان کے جنرل سیکرٹری سجاد ظہیر ابھی پاکستان بھی نہیں پہنچے تھے کہ ان کے
وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے تھے۔ 1954میں ’ملک دشمنی ‘کی آڑ میں کمیونسٹ پارٹی پر
پابند ی عائد کر دی گئی ۔
1951میں راولپنڈی سازش کیس میں ملوث ہونے کے
الزامات لگا کر کئی رہنماؤں کو گرفتار کر
لیا گیا ۔ گرفتار ہونے والوں میں فیض ا حمد فیض بھی شامل تھے ۔ 1954میں مشرقی بنگال میں یونائیٹڈ فرنٹ کی منتخب
صوبائی حکومت کو بر طرف کر کے وزیر اعلیٰ اے۔کے فضل الحق کو نہ صرف گرفتار کر
لیاگیا بلکہ اسے یک قلم ’غٖدار ‘ بھی قرار دیا گیا تھا ۔
جنرل ایوب خان کے اقتدار میں آتے آتے غداری کی فتویٰ ساز
فیکٹریاں بہت تیزی سے ملکی ضروریات کے مطابق کام کرتی رہیں تاہم جرنیلی آمریت میں
انکا فن اس قدر بام عروج پر پہنچا کہ۔۔بانیِ پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح
تک ایوب خان کی صدارتی حریف بننے کے سبب انڈین ایجنٹ قرار پائیں۔۔ایوب نے جماعت
اسلامی پر پابند عائد کی اور حضرت مولانا مودودی کو سزاے موت دلائی جو بعد ازاں
سپریم کورٹ نے ختم کی ۔ شیخ مجیب الرحمان تو بہت ہی عجیب غدار تھا۔ پہلے اسے انڈین
ایجنٹ ثابت کیا گیا، پھر اس انڈین ایجنٹ کو عام انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی
گئی۔جب اس نے فیصلہ کن اکثریت حاصل کرلی تو جنرل یحییٰ خان نے 1970کے الیکشن کے بعد عوامی لیگ کو کالعدم قرار
دے کر پاکستان توڑنے کا باقاعدہ بدوبست کیا ۔شیخ مجیب آخر تک چلاتا رہا کہ وہ
پاکستان کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے مگر اسے بنگلہ دیش کا بانی بنا کر ہی دم لیا
گیا۔یہی نہیں شرابی صدر نے نیشنل عوامی پارٹی پر بھی پابندی عائد کی۔فوجی ایکشن کے
نتیجے میں روپوش ہوجانے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستیں کوخالی قرار
دے کر ان پر میجر جنرل راو فرمان علی خان نے ضمنی انتخابات بھی کر وادیئے تھے۔ ان
صوبائی ’ا انتخابات‘ میں بھٹو کی پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے بڑھ چڑھ کر
حصہ لیا تھا ۔ بھٹو نے بر سر اقتدار آکر نیپ پر پابندی ہٹالی لیکن 1974 میں اسلام آباد میں عراق کے سفارت خانے سے
اسلحہ بر آمد کر کے نیپ پر ایک بار پھر پابندی عائد کر دی اور بلو چستا ن میں قائم
مینگل حکو مت کو ڈسمس کر دیا تھا اور ساتھ ہی وہاں فوجی ایکشن شروع ہوگیا تھا ۔
جی ایم سید
کئی بار محبِ وطن اور اس سے کہیں زیادہ مرتبہ غدار قرار دیے گئے۔ اور یہی ملک کا
جرنیلی صدر اس کی خدمات کے عوض گلدستہ بھی پیش کرے۔خان عبدالغفار خان پختونوں کی
نظر میں عظیم قوم پرست اور اسٹیبلشمٹنٹ کی ڈائریکٹری میں غدار رہے۔ جب انتقال ہوا
تو نظریہ پاکستان کے علم بردار روزنامہ نوائے وقت نے اس غدار کی خدمات پر خراجِ
تحسین بھی پیش کیا اور پشاور ائیرپورٹ کا نام باچا خان ائیرپورٹ رکھا گیا۔جب بھٹو
وزیرِاعظم بن گئے تو پھر ولی خان اور بلوچ قیادت غدار اور غیر ملکی ایجنٹ قرار
پائے۔
جب جنرل ضیا
الحق نے تختہ الٹا تو بھٹو قاتل اور ولی خان و بلوچ قیادت محبِ وطن شمار ہونے لگے
اور پندرہ برس بعد بلوچ پھر غدار اور انڈین ایجنٹ ہو گئے۔ اور اب باری ہے نواز
شریف کی جنھوں نے اپنی پہلی وزارتِ عظمی کے دوران بے نظیر بھٹو کو سکھوں کی
علیحدگی پسند تحریک کا دشمن اور قومی ایٹمی پروگرام کے لیے سکیورٹی رسک قرار
دیا۔وہی نواز شریف دوسری وزارتِ عظمیٰ کے دوران لاہور میں واجپائی کا استقبال کرنے
کے سبب مشوک قرار پائے ۔پھر کارگل کی شکست پر پردے بھی اسی بھارت نواز وزیراعظم نے
ڈالےاور اپنی فوج کا مورال بلند رکھنے کیلئے چار کے ٹولے کو معاف بھی کردیا مگر ٹولہ ان سے خائف ہی رہا اور یہ خوف بلآخر
نوازشریف کو کال کوٹھری تک لے پہنچا ۔
مشرف کے
اقتدار میں کسی کی وضہ کردہ تعریف کے تحت کل کے مجاہدین دہشتگرد بن گئے ۔۔ پاکستان
کے کیلئے ووٹ ڈالے والے سابق گورنر و زیراعلی ٰ بلوچستان اکبربگٹی غدار قرارپائے
اور شہید کردیئے گئے۔کئی دیگر بلوچ رہنما بھی سرٹیفکٹس کی فیکٹری سے مستفید ہوئے ۔
آصف زرداری
میمو گیٹ پر غدار قرار دیئے ہی جانے والے تھے کہ اس وقت کے آرمی چیف کا بھلا
ہوجنہوں نے امریکا میں متعین سفیر حسین حقانی کی قربانی قبول کرتے ہوئے زرداری کو
بخش دیا ۔مگر میاں نوازشریف بڑے سادہ انسان ہیں ۔اپنی تیسری وزارتِ عظمی کے دوران
تاریخ میں پہلی بار کسی فوجی آمر پر ہاتھ ڈال کر عظیم جسارت کربیٹھے ۔اور پھر ڈان
لیکس ، اور مودی کو دعوت دیکر رہی سہی کسر بھی نکا دی ۔۔۔
اور تو اور
جب پلان کے عین مطابق انہیں فارغ کردیا گیا تو اب وہ سیاست میں فوج کی مسلسل مبینہ
مداخلت کا سوال اٹھا کر سیدھے سیدھے پاکستان دشمن اور غدار ہو چکے ہیں ۔تازہ ترین
اطلاعات کے مطابق ۔۔نوازشریف کے طفیل آج پاکستان کے تین سابق جنرلز اور آزاد کشمیر
کے منتخب وزیراعظم پر بھی غدر کا مقدمہ
دائر ہوچکا ہے۔تاہم اس سے نہ تو اداروں کی حرمت پر کوئی حرف آئے گا نہ
ریاست کے کشمیر بیانئے پر کوئی حرف آئے گا نہ ہی مودی اور بھارتی میڈیا خوش ہوگا۔۔
دنیا کچھ بھی بولتی ہے تو بولتی رہے ۔نیم سیاسی وزراءشد و مد سے مرشد کی جانب سے آئے احکامات کے مطابق نوازشریف
کو بھارتی ایجنٹ قرار دینے میں مصروف ہے تاہم یاد رہے کہ آج کے عظیم محبِ وطن
عمران خان بھی کل کلاں کسی بھی سبب سرکاری غدار قرار پائیں ۔۔۔ تب کیا ہوگا؟؟؟
موجودہ محب وطن کب غدار قرار پا جائیں ۔۔۔ ایمپائر جانے یا انکا خدا جانے ۔

0 comments:
Post a Comment