بھارت کو کورونا سے حاصل فوائد

 

بھارت کو کورونا سے حاصل فوائد

کووڈ نائینٹین یا کورونا وائرس نے جہاں پوری دنیا میں خوف و ہراس مچا رکھا ہے، کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہوئے اور لاکھوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

کورونا وائرس نے پوری دنیا کا رہن سہن اور انداز زندگی بدل کر رکھ دیا ہے۔

2019 کے اواخر میں ظاہر ہونے والی اس خونی وبا کے باعث اب تک اربوں نہیں کھربوں ڈالرز کا نقصان ہوچکا ہے۔ دنیا بھر کے لاکھوں کاروبار تباہ اور تاجر قلاش ہوچکے، کروڑوں لوگوں میں اشیاء ضروریات تک خریدنے کی سکت باقی نہیں رہی۔باقی مانندہ آبادی بھی مستقبل قریب میں لاحق اندیشوں سے دوچار ہے۔ اور ماہرین انتہائی وثوق کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ دنیا اب ویسی نہیں ہوگی جیسے کرونا کے آنے سے قبل ہوا کرتی تھی۔

غرض کورونا وبا نے دنیا کو ہمیشہ کیلئے تبدیل کرڈالا ہے۔ کئی ملکوں پر عذاب کی شکل میں مسلط ہوا مگر دنیا میں ایک ملک ایسا بھی جو اس وبا کے باعث بہت ذیادہ فائدے میں رہا۔۔۔

کیسے ۔۔۔ آئیے ہم بتاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قائداعظم اپنی سیاسی زندگی کی ابتداء میں ہندو مسلم اتحاد کے داعی تھے۔ مگر ہندوستان کے بدلتے ہوئے سیاسی و سماجی حالات نے انہیں جلد ہی اس حقیقت کا احساس دلادیا کہ انگریزوں سے آزادی کے بعد  ہندو اپنی اکثریت کی بناء پر غلبہ وتسلط حاصل کرلیں گے۔ بھارتی اقتدار پر آر ایس ایس کے تخریبی نظریات کی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی کے قبضے کے بعد سے بھارت میں مذہبی انتہاپسندی پر مبنی فیصلے، بل اور قانون منظر عام پر آرہے ہیں۔گزشتہ برس جدید شدی یا سنگھٹن تحریک کے پہلے مرحلے میں آسام میں قریب بیس لاکھ مسلمانوں کو غیرملکی قرار دے دیا گیا۔اسکے بعد اعلان کیا گیا کہ ملک بھر میں اسی  طرز پر این آر سی کو نافذ کیا جائے گا۔ این آر سی کا نفاذ ہوا تو ہرشہری کو تین نسلوں کا جواب دینا ہوگا اور نئے شہریت قانون کے مطابق تارک وطن مسلمانوں کو بھارتی شہریت نہیں دی جائے گی۔ اسکا واضح معنی یہی ہے کہ آسام کے بیس لاکھ مسلمانوں کی طرح مزید لاکھوں یا شاید کروڑوں مسلمانوں کو ہندوستان بدر کیا جانے کا باقاعدہ پلان قانونی طریقے سے تیار کیا گیا۔  اس صورت میں مسلمان صرف نام کے ہی آزاد ہوں گے اور ان کی آنے والی نسلوں کی زندگی ہندؤں کی غلامی میں کٹے گی ،اور دینی، تہذیبی اور تمدنی تشخص بھی برقرار نہ رہ سکے گا۔ وہ دوسرے درجے کے شہری ہوں گے جن کا کوئی مستقبل نہ ہوگا اور ترقی کے سب دروازے بند رہیں گے۔وقت نے جناحؒ کے یہ تمام خدشات درست ثابت کئے، ہندوستان میں رہ جانے والےمسلمانوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تاہم ہندو انتہاپسندوں کے اقتدار پر مکمل قبضے اور حالیہ دنو ں میں بھارت  کے ریاستی سطح پر کئے جانے والے اقدامات نے ایک بار پھر جناحؒ کو سچاثابت کیا ۔ گو کہ  بھارتی پارلیمان سے شہریت کے متنازع ترمیمی بل کی منظوری  کوحزب اختلاف سمیت دیگر سماجی حلقوں کی جانب سے سخت مخالفت کا سامنا رہا اور ملک بھر کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رہا علاوہ ازیں مسلم کُش فسادات کی راہ بھی ہموار کی گئی، معاملہ اس حد تک بڑھا کہ کئی ریاستوں میں خانہ جنگی کا خطرہ تک منڈلانے لگا تاہم عالمی وبا کے باعث بکھرتے بھارت کو ایک بار پھر کھڑے ہونے کا موقع مل گیا۔

 

دوسری طرف چانکیہ کے پیروکاروں نے اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حثیت کا خاتمہ کیا۔اور خطے کو مرکز کے زیرِ انتظام دو حصوں لداخ اور جموں و کشمیر میں تقسیم کر دیا تھا۔اس سے قبل ہی بھارت نواز سیاستدانوں سمیت کشمیر کے تمام سرکردہ رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا تھا اور وہاں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر دیا۔ظلم و بربریت کی اس نئی داستان کیخلاف

پاکستان گزشتہ بہتر سالوں کی طرح کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی و اخلاقی حمایت کا بوجھ اٹھائے ہوئے دنیا کے سامنے بھارتی جبرکیخلاف گریہ کناں رہا۔ ہم بہترسالوں میں کشمیر یوں کے ساتھ سادہ خوشبو یکجہتی  اور ایام  شہداء مناتے آرہے ہیں ۔ان کے لئے عالمی حمایت کی بھیک مانگتے رہے ہیں ، ہمارا موقف رہا کہ مسئلہ کشمیر سے متعلق دنیا ہماراموقف سنتی اور تسلیم کرتی ہے۔اقوام متحدہ کےذیلی ادارے ہوں ،او آئی سی یا دیگرعالمی و علاقائی فورمز۔ہم ہرفورم پر کشمیریو ں کے حق خود ارادیت کیلئے  سفارتی و اخلاقی کامیابی کے دعوے کرتے رہے ۔ پانچ اگست کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد بھی پاکستانی ریاست مکمل طورپر کشمیریوں کی ہر ممکن حمایت میں لگی رہی اور کافی حد تک اس معاملے کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے میں کامیاب بھی رہی مگر کورونا کے آتے ہی دنیا کو اپنی فکر لاحق ہوگئی اور بھارت کو مظالم اور جبر بڑھانے کیلئے ایک بہترین موقع میسر آگیا جسکا وہ بھرپور انداز میں فائدہ اٹھارہا ۔۔۔

غرض کورونا وبا نے دنیا کو ہمیشہ کیلئے تبدیل کرڈالا ہے۔ کئی ملکوں میں نقصانات صدیوں کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں مگر بھارت اس صورتحال میں بھی فائدے میں ہے ۔۔۔ صرف مسلمان اور کشمیری ہی نہیں سکھ، دلت اور دیگر اقوام بھی ہندوتوا کے عذاب کا شکار بن رہی ہیں۔۔ جن کے بارے میں ہم اپنی آنے والی ویڈیوز میں آپکو بتائیں گے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھارت سے متعلق مزید معلوماتی ویڈیوز دیکھنے کیلئے سبسکرائب کریں اور بیل آئیکن کو کلک کردیں۔۔

 

 

0 comments:

Post a Comment