بھارت کا نظریاتی ’’باپ‘‘ چانکیہ اور ارتھ شاسترا

 

چانکیہ اور ارتھ شاسترا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.

اگر دشمن کمزور ہو تو اسےڈرا کرزیرکرلو۔۔۔اگر تم سے ذیادہ مضبوط ہے تو اسے دوست بنالواور جب وہ تم سے غافل ہوتو اسکی پیٹھ پر حملہ کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مشہور مکروآنہ پالیسی کا بانی کون تھا؟؟

اردو کا مشہور مقولہ ۔۔۔ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ۔۔ کس شخصیت کی مکرو فریب سے بھرپور تعلیمات کی بناء پر وجود میں آیا؟؟؟

اس مشہور و معروف یا بدنام زمانہ طسماتی شخصیت کا نام ۔۔ کوٹیلہ چانکیہ تھا۔۔۔ اس کے بارے میں مزید

ہم آپکو بتائیں گے ۔۔۔۔ مگر پہلے ذکر ۔۔ اسکی مدد سے قائم ہونے والی ہندوستان کی تاریخ کی سب سے پہلی بادشاہت اور پہلے مرکزی حکمران کا ۔۔۔

قبل از مسیح کی معلوم تاریخ بتاتی ہے کہ چندر گپت موریا ایک بے سروسامان اور گم نام شخص تھا جس نے ہندوستان میں موریا سلطنت کی بنیادی رکھی۔ یہ پہلا حکم راں ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کیا اور سلطنت قائم کرلی۔ اس نے 298 سے 322 قبلِ مسیح‌ میں کئی جنگیں لڑیں، جن میں سب سے اہم جنگ سکندر کے ایک سالار سِلوکس کے ساتھ ہوئی۔ چندرگپت موریہ جین مت کا پیروکار تھا۔

کوٹیلہ چانکیہ اسی عظیم شہنشاہ کا ایک اتالیق اور وزیرِ اعظم تھا۔ اسکا اصل نام وشنو گپت تھا۔اسکے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایک بڑا دانا ذہین، طبّاع اور ایک عالم شخص تھا۔ اس کے بارے میں کئی روایات اور قصّے پڑھنے کو ملتے ہیں جن میں غالبا مذہب اور معاشرت کے تفاوت کی بنیاد پر اس کی کردار کُشی بھی کی گئی ہے۔ مشہور ہے کہ وہ ایک حاسد انسان تھا اور اسی لیے وہ کوٹلیا مشہور ہوا۔ ذات کا برہمن تھا۔ اسی کی مدد سے چندر گپت نے عظیم الشان سلطنت قائم کی اور تاریخ میں‌ اپنا نام لکھوانے میں‌ کام یاب رہا۔

چانکیہ 375 قبل مسیح میں ٹیکسلا (موجودہ پنچاب، پاکستان) میں پیدا ہوا۔اس اعتبار سے وہ سن آف دی سوائل بھی ہے تاہم اسکی نظریاتی میراث کے اصل وارث سرحد کے اس پار ہی بستے ہیں۔ چانکیہ کو بہت سے تاریخ دان سیاسی اور ریاستی امور کے ماہر اور ایک فلسفی کے طور پر جانتے ہیں۔ اسے قدیم ہندوستان کا میکاولی قرار دیاجاتا ہے۔ میکاولی کی طرح چانکیہ بھی انسانی کے باہمی تعلقات یا حکمرانی تمام رشتوں میں چالاکی،بددیانتی اور مکروفریب کا قائل تھا۔یہی نہیں چانکیہ ریاستی اور بین الاقوامی امور میں بد دیانتی اور مکر و فریب کی پالیسی کا پرچارک تھا۔ قدیم اور جدید ہندوستان میں اسے اپنی فکر کی وجہ سے ہمیشہ پذیرائی ملتی رہی ہے۔ اس خطے میں اسے ایک پولیٹیکل فلاسفر اور سٹریٹجک امور کا ماہر سمجھا جاتا رہا ہے۔

1947 کے بعد جب قریب ہزار سال بعد ہندؤں کو باقی مانندہ ہند کی مرکزی حکمرانی نصیب ہوئی تو انہوں نے فورا اپنے اس روحانی والد کی مریدی اختیار کرلی۔ ہندوستانی حکمران روز اول سے ہی ملک کے اندر اور باہر اپنی چانکیہ کی تعلیمات پر مبنی منافقانہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں اور مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں سمیت تمام اقلیتوں کو مسلسل مکروفریب کے ذریعے تیسرے درجے کے شہری بنانے میں سرگرم عمل ہیں۔

بھارتی معاملات میں چانکیہ کی پذیرائی کا یہ عالم ہے کہ بھارتی دارلحکومت میں قائم سفارتی علاقے کو اس کے نام سےمنسوب کیا گیا ہےاور یہ چانکیہ پوری کہلاتا ہے۔۔۔

منافقت، مکروفریب اور حددرجہ بےایمانی ۔۔ چانکیہ کی تعلیمات کا اصل ماخذ اسکی کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ ہے۔ یقینا اپنے دور کے اعتبار سے اس کتاب کو ایک عظیم تصنیف قرار دیاجاسکتا ہے۔

اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدّن، علوم و فنون، معیشت، ازدواجیات، سیاسیات، صنعت و حرفت، قوانین، رسم و رواج، اور ریاستی امور سمیت کئی اہم موضوعات چانکیہ نے اپنی فکر اور علمیت کا اظہار کیا ہے۔ماہرین و محققین متفق ہیں کہ یہ کتاب 300 سے 311 قبلِ مسیح کے دوران لکھی گئی۔ اس کتاب کا اصل متن سنسکرت میں تھا اور یہ 1904ء میں دریافت ہوئی۔ 1905ء میں اسے پہلی بار کتابی شکل دی گئی اور بعد کے ادورار میں اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔

ارتھ شاستر کو چانکیا کا علمی کارنامہ قرار دیا جاتا ہے جس کے تین بنیادی حصّے ہیں۔ ایک انتظامیہ، دوسرا ضابطہ و قانون اور انصاف کے مباحث پر مشتمل ہے اور تیسرے میں خارجہ پالیسی کا بیان ہے۔ اس کے علاوہ تہذیب اور تمدّن پر نہایت عمدہ مضامین شامل ہیں۔

چانکیا اور اس کی تصنیف ارتھ شاستر کی نسبت متضاد آرا مشہور ہیں اور اس پر مباحث کا سلسلہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔ یہاں تک کہ ہندوستانی اور مغربی محققین چانکیا جیسے کسی شخص کے وجود اور اس کی کتاب کے متن پر بھی شک و شبہ ظاہر کرتے رہے ہیں اور اس بارے میں اختلافِ رائے موجود ہے، لیکن بعض مغربی محققین اور مستشرقین کا کہنا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ کتاب چانکیہ کی تصنیف ہے یا نہیں، لیکن یہ اپنے وقت کی اہم ترین اور لائقِ مطالعہ کتاب ضرور ہے جس نے موجودہ دنیا کو ایک قدیم تاریخ اور تہذیب کی کہانی سنائی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چانکیہ کے فلسفے پر عمل پیرا ہوکر کیسے تقسیم کے وقت ہندوستان نے پانچ شاندار ریاستوں کو زبردستی اپنے ساتھ الحاق پر مجبور کیا؟؟

موجودہ دور میں چانکیہ کے چیلے کیسے منافقت سے بھرپور خارجہ و داخلہ پالیسی ترتیب دے رہےہیں؟؟

یہ سب اور بہت کچھ جاننے کیلئے چینل کو سبسرائیب کریں اور بیل آئیکن کو کلک کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 


0 comments:

Post a Comment