ملک بڑا یا مَلک؟
ملک بڑا یا مَلک؟
اٹھتے ہیں حجاب آخر ۔۔۔ از ۔۔۔ احسن
اعوان
قوموں کی ترقی میں
سب سے بڑی رکاوٹ شخصیت پسندی یا شخصیت پرستی ہوتی ، اور یقینا ہم پاکستانی
بہ حثیت قوم اس عارضہ میں بری طرح لاحق ہیں۔شخصیت مذہبی ہو یا سیاتی ، سماجی ہو یا
عسکری ۔۔۔ہم ہر کسی کے سحرمیں ایسے گرفتار ہوتے ہیں کہ انہیں ہر قسم کی غلطی و کوتاہی
سے ماورا تصور کرکے،آنکھوں دیکھا بھی ردکردیاکرتے ہیں۔اب وہ قائداعظم ؒہوں،مولانا
موددی ؒ، ایوب خان ہوں یا پرویزمشرف ،بھٹو ہوں یا نوازشریف یا پھر عمران خان
۔ہر کسی کا حلقہ ِشائقین انہیں تمام تر معاملات میں کامل تصور کرتا ہے اور کسی بھی
غلطی کو چاہے جتنا بھی قریب سے دیکھ لے، انکے دفاع میں کوئی نہ کوئی عذر تراش لینا
قطعا مشکل کام نہیں۔ تاہم مملکت ِ خداداد میں ایک ایسی کرشماتی شخصیت بھی
جلوہ افروز ہے جوبلاشرکت غیر تمام سیاسی،سماجی،مذہبی و عسکری گرہوں کیلئے ’’محرم
‘‘ کا درجہ رکھتی ہے۔حکومتیں آتی جاتی رہیں،اقتدار کے تمام کھلاڑی ایک دوسرے کو
چور،کرپٹ اور غدارقراردیتے رہے مگرگزشتہ کئی دہائیوں سے ملک ریا ض حسین سب کی پہلی
پسندبنے رہے ۔اورانکاخاموش اقتدار جاری آج تک جاری ہے۔
گزشتہ
دنوں برطانوی کرائم ایجنسی این سی اےنےاعلامیہ جاری کیا جس میں پاکستان کے بزنس
ٹائیکون ملک ریاض حسین سے عدالت کے باہر سیٹلمنٹ کے تحت 190 ملین پائونڈ سٹرلنگ کی
وصولی کا ذکر تھا۔اس پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ نمبر ایک ہائیڈ پارک کی
جائیداد اور آٹھ بنک اکائونٹس منجمد کر کے یہ رقم وصول کی گئی۔ تفصیلات سامنے
آئیں تو پتہ چلا کہ ملک صاحب نے ون ہائیڈ پارک کی یہ جائیداد سابق وزیر
اعظم میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز سے خریدی اور آٹھ بنک اکائونٹس کی
مشکوک ٹرانزیکشن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ملک ریاض حسین نے ازخود وضاحت جاری کر
کے این سی اے کے پریس ریلیز کی تائید کی ۔انہوں نے پشاور میں بحریہ ٹاؤن دفتر کے
افتتاح کے موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا کہ میں نے سپریم کورٹ کو کراچی
بحریہ ٹاؤن مقدمے میں 19 کروڑ پاؤنڈ کے مساوی رقم دینے کے لیے برطانیہ میں قانونی
طور پر حاصل کی گئی ،ظاہر شدہ جائیداد کو فروخت کیا۔ ملک ریاض نے رواں برس مارچ
میں پاکستان کی سپریم کورٹ کو بھی 460 ارب روپے کی ادائیگی پر رضامندی ظاہر کی تھی
جس کے بدلے عدالتِ عظمیٰ نے ان کے خلاف کراچی کے بحریہ ٹاؤن سے متعلق تمام مقدمات
ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ایجنسی این سی اےکا اعلامیہ اور اس پر ملک ریاض کا ردعمل
الگ بحث ہے مگر اس پاکستانی اداروں کے تاثرات انتہائی قابل غور ہیں ۔نمبر ایک
پاکستان کا تمام ’‘آزادمیڈیا‘‘،تمام چینلز اور اخبارات نے اس خبر کو نشر اور شائع
کرتے ہوئے ملک ریاض کا نام گول کر دیا۔جیسا عام دیہاتی خواتین خاوند اور منگیتر کا
نام لیتے ہوئے شرماتی اور "اُن" کا استعارہ استعمال کرتی ہیں۔ہمارے
میڈیا نے بھی ملک صاحب کے نام کے بجائے ’’ایک پاکستانی شخصیت‘‘ کےذکرکے ساتھ
خبریں چلائیں۔بیشک میڈیا کو بھی تجارتی مفادات مقدم ہوتے ہیں ،ہر ادارے میں بعض
مقامات اور اشخاص شجر ممنوعہ ہوتے ہیں مگر سارے ہی حریت پسند چوکڑی بھول جائیں؟
وہ جو ایک دوسرے پر سیاسی ٹاؤئٹ ،بدعنوانی یہاں تک کہ غداری کے فتوے بھی
صادر کرتے کوئی عار محسوس نہیں کرتے وہ سب ایک شخصیت کیلئے اس قدر حساس کیسے
ہوگئے؟ یہ کیسی پابندی ہے جسکے لئے نہ وفاق کا کوئی دباؤ ہے نہ نادیدہ قوتوں
کا۔گوکہ کچھ صحافی اپنی ذاتی حثیت میں ملک ریاض پر تنقید تو کرتے پائے گئے مگر
آزادی ِ صحافت کےیہ علمبردار اپنے میڈیا ہاؤسز کو آزاد کرانے پر توجہ
کیوں نہیں دیتے؟ملک کے موجودہ وزیراعظم سے متعلق یہ گمان کیا جاتا ہےکہ وہ
کرپشن کیخلاف جہاد میں مصروف ہیں، انکی ہرتقریر کا آغازو اختتام کرپشن،بدعنوانی
اورغیرقانونی ذرائع سے لوٹی ہوئی دولت کی واپسی پر ہی ہوتا ہے۔ برطانیہ سے اس رقم
کی واپسی بھی مبینہ طور پر وزیراعظم عمران خان کی ٹیم ہی کی کوششوں کا نتیجہ
قراردی جارہی ہے۔مگرسب سے ذیادہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ نہ صرف وزیراعظم خود اس
معاملے پر خاموش ہیں بلکہ اپنی کابینہ کو بھی سختی سے زبان بندی کی ہدایت کررکھی
ہے ۔گزشتہ پندرہ ماہ سے سیاسی مخالفین پر درجنوں نہیں سیکڑوں الزامات لگائے،اب تک
کچھ ثابت نہیں کیا جاسکا مگر اسکےباجودباربار دہرائے جارہے ہیں ،مگر
جوصاحب نہ صرف رنگے ہاتھوں پکڑےگئےاور رقم بھی وطن واپس آگئی تو یہ خاموشی کیوں؟
کیا کرپشن اور غیرقانونی پیسےکیخلاف ساری محنت محض اپوزیشن کیخلاف سیاسی
اسکورنگ ہے یا ملک ریاض صاحب کیخلاف لب کشائی سے خوف محسوس ہوتا ہے۔وزیراعظم صاحب
کچھ تو ہے جسکی پردہ داری ہے ۔اورمجھے اور ہر پاکستانی شہری کو سچ کے پردے میں
لپٹے اس جھوٹ سے سوفیصد اختلاف ہے۔
پردہ
داری کے باجودیہ حقیقت عیاں ہے کہ یہاں صدر ووزرائے اعظو ں کو جیلوں میں
ڈالاجاسکتاہے۔ چیف جسٹس کو سڑکوں پر گھسیٹا جاسکتا ہے،آرمی چیف کو گرفتار کرکے
قیدتنہائی میں ڈالا جاسکتا۔دہائیوں تک دن رات ملکی دفاع میں جٹے رہنے
والاایٹمی سائنسدان متنازع قرار دیکردیوار سے لگایاجاسکتا ہے ۔مگر۔ہماری اسٹبلشمنٹ
کیلئے شاید۔َملک کاقد ُملک سےبھی بڑا ہے۔

0 comments:
Post a Comment