ہم کس کے پیروکار ہیں ؟
ہم کس کے پیروکار ہیں ؟
اٹھتے ہیں حجاب آخر
از۔۔۔۔۔احسن اعوان
ناانصافی کیخلاف احتجاج ایک ایسا انسانی حق ہی جو ہر طرز
حکومت میں قابل استعمال رہتا ہے تاہم اسکے نتائج کا ثمرات یا مضمرات میں آنا یقینا
مظاہرین کی نیت اور استقامت پر منصر ہوا کرتا ہے۔دنیا بھر میں عقل مند اور باشعور
اقوام معاملات طے کرنے کیلئے پر دلیل اور
موثر انداز احتجاج اپنایا کرتے ہیں جس سے کسی بھی طور انکی اجتماعی تصویر متاثر
نہیں ہوتی اور معاملات کا پرامن حل تلاش کرنے میں بھی عموما کامیاب ہو جاتے ہیں اور
یوں ریاستی عملداری میں قانون شکنی کئے بغیر کاروبار زندگی رواں رہتا ہے۔آذادی سے
قبل قانون شکنوں کو ہیرو سمجھا جاتا تھا کیونکہ وہ ایک شفاف نظریہ کے تحت قابضوں
کے مفادات کو گزنداور انگریز سرکار کو ہر ممکن نقصان پہنچاتے تھے۔ پاکستان اسلام
کے نام پر قائم کیاگیا۔یہ جدید دنیا کی پہلی مذہبی ریاست ہے، جس کے قیام کا مقصد
ہی مسلمانانِ برصغیر کو اسلام کے فلاحی
معاشرتی اصولوں پر مبنی معاشرے کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنا
تھا۔1947ء میں ملک بنا، اور مذہب کے نام پر بننے والے ملک میں سب سے پہلے مذہب ہی
کو اپنے اپنے انداز میں پابندِ سلاسل کیا گیا۔ حصول آذادی کے بعد بھی ہم نے اپنے
مزاج کو بدلنا مناسب نہ سمجھا اور جہاں کسی لسانی یا مذہبی گروہ یا طبقہ فکر کو
کسی قانون نے اپنی گرفت میں لیا ”ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے“ کی للکاراورپھر ،
بلوے، مار کٹائی، قتل عام اور لاقانونیت، مذہبی معالات میں فتوے اور کافر کافر کی
صدائیں جبکہ انتظامی معاملات میں متفرق نعروں سے ”مظاہرین“نے مطلوبہ نتائج کا حصول
ممکن بنایا۔9/11کے بعد سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پرتشدد احتجاج گویا ایک فیشن
بن کر ابھرا ہے۔افغانستان پر حکومتی یو ٹرن کے خلاف ”تیری جان میری جان طالبان
طالبان“ اور نتیجہ بھر پور عوامی لوٹ مار،یورپی اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی
اشاعت پر”غلامی رسولؐ میں موت بھی قبول ہے“ اور نتیجہ ملک بھر میں مظاہرین کی جانب
سے نجی املاک کی لوٹ مار اور حکومتی املاک کی توڑ پھوڑ، اسی طرح بینظیر بھٹو کی
شہادت اور کئی ایسے ہی واقعات ہماری ذہنی پسماندگی کو ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔گزشتہ
چند سالوں کی تاریخ ہمیں یہ نظیر دیتی ہے کہ جب بھی ریاست کی گرفت ڈھیلی پڑی، عوام
نے دل کھول کر اپنی ہی ریاست کو نقصان پہنچایا،مگر بدھ کی سیاہ دوپہرمیں جو مناظر
پاکستان کے دل لاہور سے پوری دنیا نے
دیکھے،شاید انسانی تاریخ میں اسکی مثال نہیں مل سکتی ۔ انسانی جانوں کے رکھوالے
اور قانون کے رکھوالوں کے تصادم کے یہ مناظر کئی گھنٹوں تک دنیا بھر کو ہماری قومی
بے حسی کادعوت نظارہ دیتے رہے ۔ قانون کے محافظوں کا مشتعل گروہ اسپتال پر حملہ
آور ہوا،عمار ت میں موجود تمام شیشے توڑ ڈالے،گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ،پولیس وین
تک جلاڈالی مگر انہیں اطمینان نہیں ہوا تو بے یارومدگارمریضوں کو بھی نہ بخشا۔
گزشتہ ماہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی
میں چند ڈاکٹرز اور وکلا کے مابین شروع ہونے والی جنگ آج چھ معصوم زندگیاں نگل
گئی۔صوبائی وزیرتک کو زدوکوب کیا گیا۔یہ مناظردیکھ کر مجھے نوے کی دہائی میں عراق کیخلاف امریکا کی جنگ کا مرکزی کردار
،نیرا الصباح یاد آگئی۔عراق پرپہلے امریکی حملے سے قبل یعنی اکتوبر1990 میں اس
کویتی لڑکی کو لاکھوں ڈالرزخرچ کرکے صرف یہ جھوٹ بلوانے کیلئے تیار کیا گیاکہ صدام
کی فوج نے کویت میں ایک ’’اسپتال ‘‘ پر حملہ کیا۔اس جھوٹ نے امریکی عوام کو اتنا
مشعل کردیا کہ راتوں رات صدام کیخلاف نفرت
اور عراق پر حملے کی راہ ہموار ہوگئی
کیونکہ ’’مہذب انسانوں ‘‘ کے مطابق انسانیت کی اس سے بڑھ کر تذلیل نہیں
ہوسکتی ۔
ہمیں بطور ایک مسلمان یا پاکستانی نہیں بطور ایک انسان
سوچنا ہوگا کہ اگر ہم قوم ہیں تو کیسی قوم ہیں؟ہماری علمی پسماندگی کا یہ عالم کہ پی ایچ ڈی اسکالزسے لیکر اساتذہ تک سڑکوں پر مارے
،گھسیٹے جاتے ہیں۔ اخلاقی پسماندگی کا یہ عالم ہیں کہ سیاسی یا نظریاتی حریف کو ملک دشمن اور غدارکہہ دینا کوئی مسئلہ ہی
نہیں، کسی پر بھی جائزنا جائزالزام دھردینا اپنا حق سمجھا جاتا ہے اورذہنی
پسماندگی کا یہ عالم کہ اپنے سوا ہر گروہ
ہمیں کافر نظرآتا ہے۔اوراخلاقی پسماندگی کا
یہ عالم کہ معاشرے کے دو انتہائی اہم اورپڑھے لکھے طبقے باہم دست وگریباں
ہیں اور اب بھی اپنے اپنے گروہ کے تحفظ
میں مصروف ہیں۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق ملک بھر کی کئی بار کونسلز ڈاکٹرز کیخلاف
مکمل ہرتال کا اعلان کرچکی ہیں جبکہ
ڈاکٹرزتنظیمیں وکلا کےخلاف احتجاج کے نام
پر اپنے فرائض سرانجام دینے سے انکاری ہیں۔اس معاملے کا آغازکیسے ہوا،کون حق بجانب
تھا اور کون قصور وار، یہ تمام ضمنی اور غیرضروری سوالات ہیں،اصل سوالات یہ ہیں کہ
کیا ہم ایک قوم کہلانے کے لائق بھی ہیں؟ محمدؐ عربی کی غلامی کے دعوے تو ہم بھرپور
کرتے ہیں مگر رسول ﷺ
کے اسوہ حسنہ سے واقف بھی ہیں؟ ہمیں سوچنا
ہوگا کہ ہم کون ہیں ، ہم کس کو ماننے والے
ہیں اور ہم کس کے پیروکار ہیں۔۔۔

0 comments:
Post a Comment